30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولنا رسالۃ فی خصوص اثبات الکرامۃ بعد موت الولی[1] اھ ملخصًا۔ |
ہم نے ایك رسالہ خاص اسی امر کے ثبوت میں لکھا ہے اھ ملخصًا (ت) |
قول (٨٨ و ٨٩): شیخ مشائخنا رئیس المدرسین بالبلد الامین مولٰنا جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں:
|
قال العلامۃ الغنیمی وھو خاتمۃ محققی الحنفیۃ اذاکان مرجع الکرامات الٰی قدرۃ اﷲ تعالٰی کما تقرر فلا فرق بین حیاتھم ومماتھم (الٰی ان قال) قد اتفقت کلمات علماء الاسلام قاطبۃً علٰی ان معجزات نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا تحصر لان منھا ما اجرہ اﷲ تعالٰی ویجریہ لاولیائہ من الکرامات احیاءً وامواتًا الٰی یوم القیٰمۃ [2]۔ |
علاّمہ غنیمی رحمہ اﷲ تعالٰی نے کہ محققین حنفیہ کے خاتم ہیں فرمایا جب ثابت ہوچکا کہ مرجع کرامات قدرت الٰہی کی طرف سے، تو اولیاء کی حیات و وفات میں کچھ فرق نہیں، تمام علماء اسلام ایك زبان فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے معجزے محدود نہیں کہ حضور ہی کے معجزات سے ہیں وہ سب کرامتیں جو اولیائے زندہ و مرُدہ سے جاری کیں اور قیامت تك ان سے جاری فرمائے گا۔ |
قول (٩٠): اس میں امام شیخ الاسلام شہاب رملی سے منقول ہوا :
|
معجزات الانبیاء وکرامات الاولیاء لاتنقطع بموتھم ٣[3]۔ |
ابنیاء کے معجزے اور اولیاء کی کرامتیں ان کے انتقال سے منقطع نہیں ہوتیں۔ |
قول (٩١و ٩٢): امام ابن الحاج مدخل میں ، امام ابو عبداﷲ بن نعمان کی کتاب مستطاب سفینۃ النجاء لاہل الالتجاء فی کرامات الشیخ ابی النجاء سے ناقل:
|
تحقق لذ وی البصائر والاعتباران زیارۃ قبور الصالحین محبوبۃ لاجل التبرك مع الاعتبار فان برکۃ الصالحین جاریۃ بعد مماتھم کما کانت فی حیاتھم [4]۔ |
اہل بصیرت واعتبار کے نزدیك محقق ہوچکا ہے کہ قبور صالحین بغرض تحصیل برکت وعبرت محبوب ہے کہ ان کی برکتیں جیسے زندگی میں جاری تھیں بعد وصال بھی جاری ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع