30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی ذلك ١[1]۔ |
کہ بعض وقت ہو اور بعض وقت نہیں۔ |
قول (٨٣): بنایہ حاشیہ ہدایہ میں دربارہ حدیث تلقین موتٰی فرمایا :
|
عند اھل السنۃ ھذا علی الحقیقۃ لان اﷲ تعالٰی یجیب علی ماجاءت بہ الاٰثار [2]۔ |
اہل سنت کے نزدیك یہ اپنی حقیقت پر ہے اس لیے کہ مُردہ تلقین کا جواب دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں ا ٓیا۔ |
فصل نہم: اولیاء کی کرامتیں اولیاء کے تصرف بعد وصال بھی بدستور ہیں۔
قول (٨٤): امام نووی نے اقسام زیارت میں فرمایا: ایك زیارت بغرض حصول برکت ہوتی ہے، یہ مزارات عــــہ اولیاء کے لیے سنت ہے اور ان کے لیے برزخ میں تصرفات وبرکات بے شمار ہیں وستقف علٰی ذلك اِن شاء اﷲ تعالٰی (اِن شاء اﷲ تعالٰی عنقریب اس سے اگاہی ہوگی۔ ت)
قول (٨٥ و ٨٦): اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
|
تفسیر کردہ است بیضاوی آیہ کریمہ والنازعات غرقًا الآیۃ رابصفات نفوس فاضلہ درحال مفارقت ازبدن کہ کشیدہ می شوند از ابدان و نشاط میکنند بسوئے عالم ملکوت وسیاحت میکنند دران پس سبقت میکنند بحظائر قدس پس می گردند بشرف و قوت از مد برات[3]۔ |
قاضی بیضاوی نے آیۃ کریمہ والنازعات غرقًا الخ کی تفسیر میں بتایا ہے کہ یہاں بدن سے جدائی کے وقت ارواح طیبہ کی جو صفات ہوتی ہے ان کا بیان ہے کہ وہ بدنوں سے نکالی جاتی ہیں اور عالم ملکوت کی طرف تیزی سے جاتی اور وہاں سیر کرتی ہیں پھر مقامات مقدس کی طرف سبقت کرتی ہیں اور قوت وشرف کے باعث مدبرات امر یعنی نظام عالم کی تدبیر کرنیوالوں سے ہوجاتی ہیں۔ (ت) |
قول (٨٧): علامہ نابلسی قدس سرہ، نے حدیقہ ندیہ میں فر مایا:
|
کرامات الاولیاء باقیۃ بعد موتھم ایضا ومن زعم خلاف ذلك فھو جاھل متعصب |
اولیاء کی کرامتیں بعدا نتقال بھی باقی ہیں جو اس کے خلاف زعم کرے وہ جاہل ہٹ دھرم ہے، |
|
عــــہ: زیارت گاہی از جہت انتفاع بہ اہل قبور بود چنانکہ در زیارت قبور صالحین آثار آمدہ ۱۲ جذب القلوب |
کبھی زیارت اہل قبور سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہوتی ہے جیسا کہ قبور صالحین کی زیارت کے بارے میں ہیں احادیث آتی ہیں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع