30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر کتاب الجہاد لمعات میں اسے ذکر کرکے لکھا ہے: و ھل ھذا الا الاثبات العلم والادراك [1](یہ اگرمیّت کے لیے علم وادراك ثابت کرنا نہیں تو اور کیا ہے۔ ت)
فصل ہشتم: وہ اپنے زائروں سے کلام عــــہ کرتے اور ان کے سلام وکلام کا جواب دیتے ہیں۔
قول (۷۵ تا۷۸):امام یافعی پھر ا مام سیوطی امام محب طبری شارح تنبیہ سے ناقل ہیں امام اسمٰعیل حضرمی کے ساتھ مقبرہ زبیدہ میں تھے فقال یامحب الدین اتؤمن بکلام الموتی قلت نعم فقال ان صاحب ھذا القبریقول لی انامن حشوالجنۃ[2] انھوں نے فرمایا: اے محب الدین! آپ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مرُدے کلام کرتے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں، کہاں اس قبر والا مجھ سے کہہ رہاہے کہ میں جنت کی بھرتی سے ہوں ۔
تنبیہ: اس روایت کے لانے سے یہ غرض نہیں کہ اس میّت نے امام اسمٰعیل سے کلام کیا کہ ایسی روایات تو صدہا ہیں اور ہم پہلے کہہ آئے کہ وقائع جزئیہ شمار نہ کریں گے بلکہ محل استدلال یہ ہے کہ وہ دونوں امام احیاء سے اموات کے کلام کرنے پر اعتقاد رکھتے تھے، اور ان دونوں اماموں نےا سے استنادًا نقل فرمایا۔
تذییل: امام یافعی امام سیوطی انہی اسمٰعیل قدس سرہ الجلیل سے حاکی ہوئے بعض مقابر یمن پر ان کا گزر ہوا بہ شدت روئے اور سخت مغموم ہوئے، پھر کھلکھلا کر ہنسے اور نہایت شاد ہوئے، کسی نے سبب پوچھا، فرمایا: میں نے اس قبر والوں کو عذاب قبر میں دیکھا، رویا اور جنا ب الٰہی سے گڑا گڑا کر عرض کی، حکم ہوا: فقد شفعناك فیھم ہم نے تیری شفاعت ان کے حق میں قبول فرمائی، اس پر یہ قبر والی مجھ سے بولی: وانا معھم یا فقیہ اسمٰعیل انا فلانۃ المغنیۃ مولانا اسمٰعیل! میں بھی انھیں میں سے ہوں میں فلانی گائن ہوں، میں نے کہا: وانت معھم تو بھی ان کے ساتھ ہے۔ اس پر مجھے ہنسی آئی [3] اللّٰھم اجعلنا ممن رحمتہ باولیائك اٰمین (اے اﷲ ہمیں بھی ان میں شامل فرما جن کو اپنے اولیاء کے طفیل رحمت سے نوازا، الٰہی قبول فرما، ت)
قول (٧٩): زہرالربٰی شرح سنن نسائی میں نقل فرمایا:
|
ان للروح شانا اخرفتکون فی الرفیق الاعلی وھی متصلۃ بالبدن بحیث اذا سلم المسلم |
محض روح کی شان جُدا ہے با آنکہ ملاء اعلٰی میں ہوتی ہے پھر بھی بدن سے ایسی متصل ہے کہ جب سلام |
عــــہ: تنبیہ: جواب سلام کا ایك قول فصل ہفتم میں علامہ قونوی سے گزرا ۱۲ منہ (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع