30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قول (۶۸): تیسیر میں ہے :
|
الشعور باق حتی بعدالدفن حتی انہ یعرف زائرہ [1]۔ |
شعور باقی ہے یہاں تك کہ بعد دفن بھی یہاں تك کہ اپنے زائر کو پہچانتا ہے۔ |
قول (٦٩): لمعات و اشعۃ اللمعات وجامع البرکات میں ہے :
|
واللفظ للوسطی در روایات آمدہ است کہ دادہ می شود برائے میّت روز جمعہ علم وادراك پیشتر از انچہ داداہ می شوددر روز ہائے دیگر تاآنکہ می شناسد زائر رابیشتر از روز دیگر [2]۔ |
الفاظ اشعۃ اللمعات کے ہیں: روایات میں آیا ہے کہ میّت کو جمعہ کے دن دوسرے دنوں سے زیادہ علم وادراك دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ روز جمعہ زیارت کرنے والے کو دوسرے دن سے زیادہ پہچانتا ہے |
شرح سفر السعادۃ میں مفصل ومنقح تر فرمایا کہ:
|
خاصیّت سی ام آنکہ روز جمعہ ارواح مومناں بقبور خویش نزدیك می شوند نزدیك شدن معنوی وتعلق و اتصال روحانی نظیر ومشابہ اتصال کہ ببدن دارد و زائران راکہ نزدیك قبر می آیند می شناسد وخود ہمیشہ می شناسند ولیکن دریں روز شناختن زیادت برشناخت سائر ایام ست ازجہت نزدیك شدن بقبور لابد شناخت از نزدیك پیشتر وقوی تر باشد از شناخت ودور دربعض روایات آمد کرایں شناخت دراول روز پیشتر است از آخر آں ولہذا ازیارت قبور درین وقت مستحب تراست وعادت درحرمین شریفین ہمیں است [3]۔ |
تیسویں ۳۰ خاصیت یہ ہے کہ جمعہ کے دن مومنین کی روحیں اپنی قبروں سے نزدیك ہوجاتی ہیں، یہ نزدیکی معنوی ہوتی ہے اور روحانی تعلق و اتصال ہوتاہے جیسے بدن سے قرب واتصال ہوتا ہے۔ اس دن جو زائرین قبر کے پاس آتے ہیں انھیں پہچانتی ہیں، اور یہ پہچاننا ہمیشہ ہوتا ہے مگر اس دن کی شناخت دیگر ایام کی شناخت سے بڑھی ہوئی ہوتی ہے، ضروری بات ہے کہ نزدیك سے جو شناخت سے زائد ہوتی ہے وہ دور والی شناخت سے زائد قوی ہوتی ہے ____ اور بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ شناخت جمعہ کی شام کو بہ نسبت اور زیادہ ہوتی ہے اسی لیے وقت زیارتِ قبور کا استحباب زیادہ ہے، اور حرمین شریفین کا دستور بھی یہی ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع