30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من اٰداب الزیارۃ ماقالوا من انہ لایاتی الزائر من قبل راسہ لانہ اتعب بصر المیّت بخلاف الاول لانہ یکون مقابل بصرہ [1]۔ |
زیارت قبور کے ادب سے ایك بات یہ ہے جو علماء نے فرمائی ہے کہ زیارت کو قبر کی پائنتی سے جائے نہ کہ سرہانے سے کہ اس میں میّت کی نگاہ کو مشقت ہوگی یعنی سراٹھا کر دیکھنا پڑھے گا، پائنتی سے جائے گا تو اس کی نظر کے خاص سامنے ہوگا۔ |
قول (٦٥): مد خل میں فرمایا:
|
کفی فی ھذا بیانا قولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام المومن ینظر بنور اﷲ انتھی ونوراﷲ لایحجبہ شیئ ،ھذا فی حق الاحیاء من المومنین، فکیف من کان منھم فی الدار الاٰخرۃ [2]۔ |
اس امر کے ثبوت میں کہ اہل قبورکو احوال احیاء پر علم وشعور ہے، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ فرمانا بس ہے کہ مسلمان خدا کے نور سے دیکھتا ہے اور خدا کے نور کو کوئی چیز پردہ نہیں ہوتی، جب زندگی کایہ حال ہے تو ان کا کیا پوچھنا جو آنحضرت کے گھر یعنی برزخ میں ہیں: |
قول (٦٦): شیخ محقق جذب القلو ب میں امام علامہ صدر الدین قونوی سے نقل فرماتے ہیں:
|
درمیان قبور سائر مؤمنین وارواح ایشاں نسبت خاصی است مستمر کہ بدان زائرین رامی شناسند و ردسلام برایشاں می کنند بدلیل استحباب زیارت درجمیع اوقات[3]۔ |
تمام مؤمنین کی قبروں اور روحوں کے درمیان ایك خاص نسبت ہوتی ہے جو ہمیشہ موجود رہتی ہے، اسی سے زیارت کے لیے آنے والوں کو پہچانتے ہیں اور ان کے سلام کا جواب دیتے ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ زیارت تمام اوقات میں مستحب ہے۔ |
قول (٦٧): انیس الغریب میں فرمایا: ع
ویعرفون من اتاھم زائرًا [4]
(جو زیارت کو آتا ہے مرُدے اسے پہچانتے ہیں۔ ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع