30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بتمام انچہ متلذذمے شود بداں زندہ [1]۔ |
لاز م یہ ہے کہ اسے ان تمام چیزوں سے لذت بھی حاصل ہو جن سے زندوں کو لذت ملتی ہے۔ (ت) |
تذئیل: مسئلہ ہے کہ دارالحرب کے جن جانوروں کو اپنے ساتھ لانا دشوار ہو انھیں زندہ چھوڑیں کہ اس میں حربیوں کا نفع ہے، نہ کونچیں کاٹیں کہ اس میں جانوروں کی ایذا ہے بلکہ ذبح کرکے جلادیں تاکہ وہ ان کے گوشت سے بھی انتفاع نہ کرسکیں،
درمختار میں ہے :
|
حرم عقردابۃ شق نقلھا الٰی دار نا فتذبح وتحرق بعدہ اذلا یعذب بالنار الا ربھا۔[2] |
جس جانور کو دارالاسلام تك لانا دشوار ہو اس کی کونچیں کاٹنا حرام ہے، پہلے ذبح کریں اس کے بعد جلادیں ا س لیے کہ زندہ آگ میں ڈالنے کا عذاب دینا ربِّ نار ہی کاکام ہے۔ (ت) |
اس پر علامہ حلبی محشی درمختار نے شبہ کیا کہ یہاں سے لازم کہ مرُدے کے جسم کو صدمہ پہچائیں اس سے اسے تکلیف نہ ہو حالانکہ حدیث میں اس کا خلاف وارد ہے۔ علامہ طحطاوی و علامہ شامی نے جواب دیا کہ یہ بات بنی آدم کے ساتھ خاص ہے کہ وہ اپنی قبور میں ثواب وعذاب پاتے ہیں تو ان کی ارواح کی ابدان سے ایسا تعلق رہتا ہے جس کے سبب ادراك واحساس ہوتاہے ۔ جانوروں میں یہ بات نہیں ورنہ ان کی ہڈی وغیرہ سے انتفاع نہ کیا جاتا۔ردالمحتار میں ہے :
|
او رد المحشی علی جواز احراقھا بعد الذبح انہ یقتضی ان المیّت لا یتألم مع انہ ورد انہ یتألم بکسر عظمہ قلت قد یجاب بان ھذا خاص ببنی آدم لانھم یتنعمون ویعذبون فی قبورھم بخلاف غیرھم من الحیوانات والالزم ان لاینتفع بعظمھا ونحوہ ثم رأیت ط ذکر نحوہ ٣[3] انتہی۔ |
محشی نے جانوروں کو ذبح کرکے جلانے پر یہ شبہ پیش کیا اس سے لازم آتا ہے کہ مرُدے کو اذیت نہیں ہوتی حالانکہ حدیث میں اس کا خلاف ہے کہ میّت کی ہڈی توڑنے سے اس کو اذیت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ بات بنی آدم کے ساتھ ہے کیونکہ وہ اپنی قبروں میں خوشی اور تکلیف پاتے ہیں، جانوروں میں یہ بات نہیں ورنہ ان کی ہڈی وغیرہ سے انتفاع نہ کیا جاتا، پھر میں نے طحطاوی کو دیکھا تو انھوں نے ایسا ہی فرمایا، انتہی (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع