30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳۴علامہ طحطاوی نے اس پر تقریر فرمائی ۔
قول (٣٥): حدیث میں جو تکیہ قبر پر لگانے سے ممانعت فرمائی اور اسے ایذائے میّت ارشاد ہوا جیسا کہ حدیث ٢میں گزرا، شیخ محقق رحمہ اﷲ ا س پر شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں:
|
شاید کہ مراد آنست کہ روحِ وے ناخوش می دارد و راضی نیست بہ تکیہ کردن بر قبرے از جہت تضمن وے اہانت واستخفاف رابوی [1] واﷲ اعلم ، |
ہوسکتا ہے کہ یہ مراد ہو کہ اس کی روح کو ناگوار ہوتا ہے اور وہ اپنی قبر پر تکیہ لگانے سے راضی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس میں اس کی اہانت اور بے وقعتی پائی جاتی ہے، اور خدا خوب جاننے والا ہے۔ (ت) |
قول (٣٦تا ٣٧): عارف باﷲ حکیم ترمذی پھر علامہ نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں :
|
معناہ ان الارواح تعلم بترك اقامہ الحرمۃ والاستہانۃ فتاذی بذلك [2]۔ |
اس کے یہ معنی ہیں کہ روحیں جان لیتی ہیں کہ اس نے ہماری تعظیم میں قصور کیا لہذا ایذا پاتی ہیں۔ |
قول (٣٨ تا ٣٩): حاشیۃ طحطاوی و ردالمحتار وغیرہ میں ہے: مقابر میں پیشاب کرنے کو نہ بیٹھے لان المیّت یتاذی بما یتاذی بہ الحی [3]اس لیے کہ جس سے زندو ں کو اذیت ہوتی ہے اس سے مرُدے کو بھی ایذا پاتے ہیں ۔
اقول: بلکہ دیلمی نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے اس کلیہ کی صراحتًا روایت کی کہ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
المیّت یؤذیہ فی قبرہ مایؤذیہ بہ فی بیتہ [4]۔ |
میّت کو جس بات سے گھر میں ایذا ہوتی تھی قبر میں بھی اس سے اذیت پاتا ہے۔ |
قول (٤٠ تا ٤١): حدیث ٢٦ کے نیچے اشعہ میں امام ابوعمر عبدالبر سے نقل کیا :
|
از ینجا مستفاد می گردد کہ میّت متالم می گردد بجمیع انچہ متالم می گردد بدان حی ولازم این ست کہ متلذذ گردد |
یہاں سے معلوم ہوا کہ میّت کو ان تمام چیزون سے تکلیف ہوتی ہے جس سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع