30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی حضورہ ١[1]۔ ذکرہ فی باب الزیارۃ النبویۃ نبوی، فصل المقام بالمدینۃ المنورۃ۔ |
مذہب کے خلاف کروں ، (اسے علامہ قاری نے شرح لباب، باب زیارت فصل اقامتِ مدینہ منورہ میں ذکر کیا۔ ت) |
سبحان اﷲ اگر اموات دیکھتے سنتے نہیں تو جہر واخفاء یارفع وترك ومکث قنوت وتعجیل سجود میں کیا فرق تھا ، ﷲ انصاف، اگر بنائے قبر حجاب مانع ہو توا مام ہمام کا سامنا کہاں تھا اور اس ادب ولحاظ کا کیا باعث تھا۔
قول (٢٨تا ٣١): علامہ فضل اﷲ بن غوری حنفی وغیرہ ایك جماعت علماء نے تصریح فرمائی کہ زیارت بقیع شریف میں قبہ حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ابتدا کرے کہ پہلے وہی ملتا ہے ہے تو بے سلام کے وہاں سے گزر جانا بے ادبی ہے۔ اسی طرح اس بقعہ پاك میں جو مزار پہلے آتا جائے اس پر سلام کرتا جائے کہ جو ذرا بھی عزت و عظمت رکھتا ہے اس کے سامنے سے بے سلام چلے جانا مروّت و ادب سے بعید ہے۔ مولانا علی قاری نے شرح لباب میں اسے نقل فرما کر مسلم رکھا، ۳۰شیخ محقق نے جذب القلوب میں، بعض دیگر علما سے اس کی تحسین نقل کی ہے کہ یہ ایك عمدہ مقصد ہے جس کے ساتھ افضل واشرف کی رعایت نہ کرنی کچھ مضائقہ نہیں، مسلك مقتسط میں ہے۔
|
ذکر العلامۃ فضل اﷲ بن الغوری من اصحابنا ان البدائۃ بقبۃ العباس والختم بصفیۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہما اولٰی لان مشہد العباس اول مایلقی الخارج من البلد عن یمینہ فمجاوزتہ من غیر سلام علیہ جفوۃ فاذاسلم علیہ وسلم علی من یمر بہ اولا فیختم بصفیۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فی رجوعہ کما صرح بہ ایضا کثیر من مشائخنا[2] الخ۔ |
علامہ فضل اﷲ بن غوری حنفی وغیرہ ایك جماعتِ علماء نے تصریح فرمائی کہ زیارت بقیع شریف میں قبہ حضرت عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے ابتداء کرے اور حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے مزار پر ختم کرے یہ بہتر ہے کیونکہ باہر والا جب دائیں طرف سے شروع کرے تو پہلے وہی ملتا ہے تو ان کو سلام کئے بغیر گزرجانا بے ادبی ہے، جب ان پر گزرے اور جو مزار پہلے آتا جائے سلام کرتا جائے ، تو واپسی مزار حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا پر ختم کرے جیساکہ بہت سے ہمارے مشائخ نے تصریح فرمائی الخ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع