30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روایت چہارم : وہی امام حضرت ابویعقوب سوسی نہر جوری قدس سرہ، سے راوی، میں نے ایك مرید کو نہلانے کے لیے تختے پر لٹایا اس نے میرانگوٹا پکڑلیا میں نے کہا: جان پدر ! میں جانتا ہوں کہ تو مُردہ نہیں یہ تو صرف مکان بدلنا ہے۔ لے میرا ہاتھ چھوڑ دے۔[1]
روایت پنجم: جناب ممدوح انہی عارف موصوف سے راوی، مکہ معظمہ میں ایك مرید نے مجھ سے کہا پیر ومرشد! میں کل ظہر کے وقت مرجاؤں گا، حضرت! یہ اشرفیاں لیں اور آدھی میں میرا دفن آدھی میں میرا کفن کریں، جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کاوقت آیا مرید مذکور نے آکر طواف کیا۔ پھر کعبہ سے ہٹ کر لیٹا تو روح نہ تھی، میں نے قبر میں اتارا، آنکھیں کھول دیں، میں نے کہا: موت کے بعد زندگی کہاں؟ اناحی وکل محب اﷲ حی[2]میں زندہ ہوں اوراﷲ کا ہر دوست زندہ ہے۔اس قسم کی صدہا روایات کلماتِ ائمہ کرام میں مذکور H<Ùcñã"ìeñ"Fw6[3](اور خدا جسے نور نہ دے اس کے لیے کوئی نور نہیں۔ ت)
فصل دوم: موت سے روح میں اصلًا تغیر نہیں آتا اور اس کے علوم وافعال (عہ)بدستور رہتے ہیں بلکہ زیادہ ہوجاتے ہیں، پھر جمادیت کیسی اوراثبات تخصیص ادراک۔ ذمہ مخصص۔
قول (٦): اما م سبکی شفاء السقام میں فرماتے ہیں :
|
النفس باقیۃ بعد موت البدن عالمۃ باتفاق المسلمین بل غیرالمسلمین من الفلاسۃ وغیرھم ممن یقول ببقاء النفوس یقولون بالعلم بعد الموت ولم |
یعنی مسلمان کا اجماع ہے کہ روح بعد مرگ باقی اور علم وادراك رکھتی ہے۔ بلکہ فلاسفہ وغیرہم کفار بھی علم مانتے ہیں اور بقائے روح میں کسی نے خلاف |
عــــہ: امام سیو طی شرح الصدور میں مذہب اہلسنت کتاب الروح سے یوں نقل فرماتے ہیں :
|
ان الروح ذات قائمہ بنفسھا تصعد وتنزل وتتصل وتنفصل وتذھب وتجیئ وتتحرك وتسکن وعلی ھذا اکثرمن مائۃ دلیل مقررۃ٤ [4]۔ |
یعنی روح ایك مستقل ذات ہے کہ چڑھتی اترتی ملتی جدا ہوتی آتی جاتی حرکت کرتی ساکن ہوتی ہے اور اس پر سو سے زیادہ دلائل ثابت ہوتے ہیں۔ (م) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع