30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قول (٥): مرقاۃشرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
|
لافرق لھُم فی الحالین ولذا قیل اولیاء اﷲ لایموتون ولکن تنتقلون من دار الٰی دار[1]۔ |
اولیاء کی دونوں حالت و ممات میں اصلًا فرق نہیں،ا سی لیے کہا گیا کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایك گھر سے دوسرے گھر تشریف لے جاتے ہیں ۔ |
روایت مناسبہ عــــہ: امام عارف باﷲ استاذ ابوالقاسم قشیری قدس سرہ، اپنے رسالہ میں بسند خود حضرت ولی مشہور سیدنا ابو سعید خراز قدس سرہ الممتاز سے راوی کہ میں مکہ معظمہ میں تھا بابِ بنی شیبہ پر ایك جوان مُردہ پڑا پایا۔ جب میں نے اس کی طرف نظر کی، مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا:
|
یا ابا سعید اماعلمت ان الاحباء احیاء و ان ماتوا وانما ینقلون من دار الٰی دار [2]۔ |
اے ابو سعید! کیا تم نہیں جانتے کہ اﷲ کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مرجائیں، وہ تو یہی ایك گھر سے دوسرے گھر میں بلائے جاتے ہیں ۔ |
روایت دوم : وہی عالی جناب حضرت سیدی ابو علی قدس سرہ، سے راوی، میں نے ایك فقیر کو قبر میں اتارا، جب کفن کھولا اور ان کا سر خاك پر رکھ دیا کہ اﷲ ان کی غربت پر رحم کرے، فقیر نے آنکھیں کھول دیں اور مجھ سے فرمایا:
|
یا اباعلی أتذلنی بین یدی و من دللنی[3]۔ |
اے ابو علی ! مجھے اس کے سامنے ذلیل کرتے ہو جو میرے ناز اٹھاتا ہے۔ |
میں نے عرض کی:ا ے سردار میرے! کیا موت کے بعد زندگی؟ فرمایا:
|
بلٰی اناحی وکل محب اﷲ حی لا یضرنك بجاھی غدا یاروذباری [4]۔ |
میں زندہ ہوں اور خدا کا ہر پیارا زندہ ہے بیشك وہ جاہت وعزت جو روز قیامت میں ملے گی اس سے تجھے کوئی ضرر نہ پہنچے گا بلکہ میں تیری مدد کروں گا اے روذ باری۔ |
روایت سوم : وہی جناب مستطاب حضرت ابراہیم بن شیبان قدس سرہ، سے راوی، میرا ایك مرید جوان مرگیا، مجھے سخت صدمہ ہوا، نہلانے بیٹھا، گھبراہٹ میں بائیں طرف سے ابتداء کی، جوان نے وہ کروٹ ہٹا کر اپنی داہنی کروٹ میری طرف کی، میں نے کہا: جان پدر ! تو سچّا ہے مجھ سے غلطی ہوئی۔
|
عــــہ: ھذہ والاربعۃ بعدھا کل ذلك فی شرح الصدور ۱۲ منہ (م) |
یہ روایت اور اسکے بعد کی دوچاروں روایتیں سب شرح الصدور میں ہیں۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع