30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی مرفوع میں داخل۔ ہاں بعض اقوال تابعین مثل بلال بن سعد اس مقصد سوم میں ذکر ہوئے او ر اس کی وجہ اقوال باب سے مناسبت ، جس طرح مثلًا امام سفیان کا قول، ایسے ہی مناسب کے سبب اقوال تابعین کے ساتھ منقول ہوا۔ا ب بقیہ حضرات کے کلمات طیبات واقوال وتصریحات اگر بوجہ استیعاب لکھیے پھر دفتر ہوتا ہے۔ لہذا صرف تین سو۳۰۰ قول پر اقتصار کرتاہوں ۔ علماء صنف اول کے دوسو۲۰۰ اور اہل صنف دوم کے سو کہ دیدہ انصاف صاف ہو تو اتنے کیا کم ہیں ع
درخانہ اگرکس است یکحرف بس است
(اگر خانہ عقل میں شعور ہو تو اشارہ ہی کافی ہے)
تنبیہ: عدت قول، جدت مقول یا تعدد مقول سے ہے، ابتدًا خواہ تقریرًا اور درصورت اخیر ہر عالم کی عبارت جُدا جُدا لکھنا باعث طول۔ لہذا انھیں ایك ہی سرخی میں گن کر اسامی علماء پر ہندسہ لگادیا جائے گا۔ یہ مقصد بھی مثل اپنے دوبرادر پیشیں کے دونوں پر منقسم واﷲ سبحٰنہ ھوالموفق للحق والصواب فی کل مھم(اور خدائے پاك ہی ہر مہم میں ثواب کی توفیق دینے والا ہے۔ ت)
نوعِ اول : ا قوال علماء سلف وخلف میں، ایك تمہید اور پندرہ ۱۵ فصل پر مشتمل۔
(١) ابن عساکر تاریخ دمشق میں امام محمد بن وضاح سے راوی، امام اجل سحنون بن سعید قدس سرہ، سے کہا گیا ایك شخص کہتا ہے بدن کے مرنے سے روح بھی مرجاتی ہے۔
فرمایا: معاذاﷲ ھذا من قول اھل البدع [1]
خدا کی پناہ یہ بدعتیون کا قول ہے۔
(٢) امام ابن امیرالحاج خاتمہ حلیہ میں دربارہَ فوائد غسلِ میّت فرماتے ہیں:
|
اذا اعتنی المولی بتطھیر جسد یلقی فی التراب |
یعنی جب بندہ دیکھے گا کہ مولٰی تبارك وتعالٰی نے |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) قد قالوا* اذالیس للرأی فیہ مجال* ولیس للقیاس فی ذاالباب* من مدخل عند ذوی الالباب* وانما التسلیم فیہ اللائق* والنقیاد حیث أبنا الصادق ١٢ منہ (م) |
روایت کیا ہے (٣) وہ حسبِ ارشاد عُلمائے مرفوع کے حکم میں ہے۔ ا س لیے کہ اس بارے میں رائے کا گذر نہیں (٤) اور قیاس کا اس باب میں ارباب عقول کے نزدیك کوئی دخل نہیں (٥) جب صادق نے خبر دی ہے تو اس میں تسلیم وقبول اور تابعداری ہی مناسب ہے ۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع