30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کما اخرجہ ابن مندہ من و جہ اٰ خر کما ذکرہ الامام السیوطی فی شرح الصدور قلت بل والطبرانی ایضًا علٰی ماساق لفظہ البدر المحمود فی البنایۃ شرح الھدایۃ ۔ |
جیسا کہ ابن مندہ نے دوسرے طریق سے ا س کی روایت کی، اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں بلکہ طبرانی نے بھی اسے روایت کیا ہے، جیسا کہ علامہ بدر الدین محمود عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں اس کے الفاظ ذ کر کیے ہیں۔ (ت) |
اور تین تابعیوں سے عنقریب منقول ہوگا کہ اسے مستحب کہا جاتا تھا۔ ظاہر ہے ان کی یہ نقل نہ ہوگی مگر صحابہ یا اکابر تابعین سے جو ان سے پہلے ہوئے۔ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین۔ علامہ ابن حجر مکی کی شرح مشکوٰۃ میں ہے : اعتضد بشواھد یرتقی بھا الٰی درجۃ الحسن [1]( یہ حدیث بوجہ شواہد درجہ حسن تك ترقی کیے ہے) اسی طرح ذیل مجمع بحار الانوار میں تصریح کی کہ اس نے شواہد سے قوت پائی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
حدیث (٥٤تا ٥٦): امام سعید بن منصور شاگرد امام مالك واستاذ امام احمد اپنے سنن میں راشد عــــہ۱ ۱ بن سعد وضمرہ بن حبیب عــــہ۲ وحکیم بن عمیر عــــہ۳سے راوی، ان سب نے فرمایا :
|
اذا سوی علی المیّت قبرہ وانصرف الناس عنہ کان یستحب ان یقال للمیّت عندہ قبرہ یافلان قل لا الٰہ الا اﷲ ثلث مرات یافلان قل ربی اﷲ ودینی الا سلام ونبی محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم [2]۔ |
جب میّت پر مٹی دے کر قبر درست کر چکیں اور لوگ واپس جائیں تو مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مُردے سے اس کی قبر کے پاس کھڑے ہوکر کہا جائے : اے فلاں ! کہہ لا الٰہ الاّ اﷲ تین بار، اے فلاں! کہ میرا رب اﷲ ہے اور میرا دین اسلام اور میرے نبی محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔ |
وصل اٰخر من ھذا الفصل: فصل پنجم کی حدیثوں نے جس طرح بحمد اﷲ سماع موتٰی کی
عــــہ۱ : تابعی ثقہ رجال سنن اربعہ سے ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲: تابعی ثقہ رجال صحاص ستہ سے ۱۲ منہ (م)
عــــہ۳: تابعی صدوق رجال ابوداؤد و ابن ماجہ سے ۱۲منہ (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع