30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث (٤٩): یو ہی صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حدیث ابو طلحہ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی[1]:
|
اما البخاری فساقہ بطالہ واما مسلم فاحالہ علی حدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔ |
امام بخاری نے تو اسے تفصیل سے ذکر کیا مگر امام مسلم نے تفصیل حدیث انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے کی۔ (ت) |
حدیث (٥٠): طبرانی نے بسند صحیح عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
یسمعون کما تسمعون ولکن لا یجیبون [2]۔ |
جیسا تم سنتے ہو ویسا ہی وہ بھی سنتے ہیں مگر جواب نہیں دیتے۔ |
حدیث (۵۱): اسی طرح امام سیلمان بن احمد مذکور نے حدیث
عبداﷲ بن سیدان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی۔
تنبیہ نبیہ: ان چھ حدیثوں کے جواب میں جو کچھ کہا گیا تخصیص بے مخصص و
دعوٰی بے دلیل سے زیادہ نہیں۔ مثلا یہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا خاص اعجاز
تھا۔ یا یہ امر صر ف ان کفار کے لئے ان کی حسرت و ندامت بڑھانے کو واقع ہو ا
حالانکہ ان کی تخصیصوں پر اصلًا کوئی دلیل نہیں۔ ایسی گنجائش ملے تو ہرنص شرعی
جیسے چاہیں مخصص ہوسکے۔ اور ان سے بڑھ کر یہ رکیك تاویل ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی
علیہ وسلم کا یہ خطاب حقیقۃً اموات سے خطاب نہ تھا بلکہ زندوں کو عبرت و نصیحت
تھا، حالانکہ نفسِ حدیث اس کے رد پر حجت کافیہ۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
نے امیر المومنین فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جواب میں صاف ان کا سننا ارشاد
فرمایا، نہ یہ کہ ہمارا یہ کلام صرف تنبیہ احیاء کے لیے ہے۔ جیسے مر ثیہ سیدنا
امام حسین (رضی اﷲ تعالٰی عنہ) میں کسی کا مصرع:
اے آب خاك شو کہ ترا آبرو نماند
( اے آب! خاك ہو جا کہ تیری آبرو نہ رہی ۔ت)
باقی ا س کے متعلق ابحاث فتح البخاری و ارشاد الساری وعمدۃ القاری شروح صحیح بخاری و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع