30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولکن لا یجیبون ١[1]۔ |
ہیں، ارشادفر مایا: تم کچھ ان سے زیادہ نہیں سننے والے پر وہ جواب نہیں دیتے۔ |
حدیث (٤۷): صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی :
|
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یرینا مصارع اھل بدر و ساق الحدیث الٰی ان قال فانطلق رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حتی انتھٰی الیھم فقال یا فلان بن فلان ویا فلان بن فلان ھل وجہتم ما وعدکم اﷲ ورسولہ حق فانی قد وحدت ماوعدنی اﷲ حقا قال عمر یا رسول اﷲ کیف تکلم اجسادا لا ارواح فیھا قال ما انتم باسمع لما اقول منھم غیر انھم لایستطیعون ان یردوا علی شیئا [2]۔ |
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہمیں کفار بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہا ں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں، جہاں جہاں حضور نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں۔ پھر بحکم حضور وہ جیفے ایك کنویں میں بھردئےگئے۔ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے اور نام بنام ان کفار لیام کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا۔، اور فرمایا: تم نے بھی پایا جو سچا وعدہ خدا ا ور رسول نے تمھیں دیا تھا کہ میں نے تو پالیا جو حق وعدہ اﷲ تعالٰی نے مجھے دیاتھا۔ امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی یا رسول اﷲ ! حضور نے ان جسموں سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں۔ فرمایا: جو میں کہہ رہاہوں کسے کچھ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے مگر انھیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔ |
حدیث (٤٨): یونہی صحیح مسلم وغیرہ میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی اور اس میں ہے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تین دن بعد اس کنویں پر تشریف لے گئے اور عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے جواب میں فرمایا:
|
والذی نفسی بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم ولکنھم لایقدرون ان یجیبوا٣ [3]۔ |
قسم اس کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں جو فرما رہاہوں اس کے سننے میں تم اور وہ برابر ہو مگر وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع