30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بشوکت احادیث قاہرہ اتنی دیر کے لیے سماع تسلیم کیا تو واجب کہ اس میّت سے کلام کرنے ولا حانث ہو کہ وہ مبنٰی آپ کے اقرار سے یہاں منتفی، حالانکہ مسئلہ قطعًا مطلق ہے، لاجرم ماننا پڑے گا کہ ایمان عرف پر مبنی اور عرفًا اس قسم سے بعدموت کلام کرنا نہیں سمجھاجاتا ۔ لہذا حالتِ حیات سے مقیدرہا، ہم کہیں گے اب حق کی طرف رجوع ہوئے، واقعی اس مسئلہ کا یہی مبنٰی ہے اورا ب انکار سماع موتٰی سے اسے کچھ علاقہ نہ رہا کما لایخفی، اسی طرح حضرات نجدیہ سے کہا جائے کہ اگر آپ بھی احادیث صحیحہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لاکر سماعت میّت تسلیم کرتے ہیں۔ اگرا س وقت خاص ہی میں سہی، تو اب حکم ارشاد ہو، اگر کوئی بندہ مسلمان کسی عبد صالح کے دفن ہوتے ہی فورًا اس سے استمداد وطلب دعا کرے تو بھی وہ بربنائے انکار یعنی عدم سماع متحقق نہ ہو۔ ذرا جی کڑا کرکے اس وقت خاص ہی میں اجازت دے دیجئے۔
وخامسًا کما اقول ایضًا موت کو تمام احواس وادراکات ودیگر اوصافِ حیات سے یکساں نسبت ہے۔ معاذ اﷲ اگر پتھر ہونا ٹھہرا تو سننا، دیکھنا، سمجھنا، بولنا سب کا بطلان لازم ۔ اور یہ حضرات کرام خود فرما چکے کہ موت منافی فہم ہے۔ اب کیا جواب ہے ان حدیثوں سے جو فصل اول و دوم و سوم میں گزریں، جن سے ثابت کہ اموات ہمیشہ اپنے زائروں کو پہچانتی ہے او ران سے انس حاصل کرتی اوران کے سلام کا جواب دیتی اور ان کی بے اعتدالیوں سے ایذا پاتی ہیں الٰی غیر ذلك من المامور المذکورۃ (امور مذکورہ جیسے دیگر امور۔ ت) _____ بھلا یہاں تو مقدمہ سوال کی تخصیص نکلی تھی ان مقدمات میں کونسی خصوصیت آئے گی۔
تنبیہ: میرا یہ سب کلام حقیقتًا اُن حضراتِ منکرین سے ہے جو عبارات علماء کے یہ معنی سمجھے، ورنہ فقیر کے نزدیك ان کے ارشاد کا وہ محل ممکن جو عقیدہ اہل حق سے مخالف نہ ہو۔ مولوی صاحب اگر جواب فقیر میں ان عبارات کو یاد کریں گے اس وقت انشاء اﷲ تعالٰی وہ تحقیق تدفیق انیق حاضر کروں گا۔ اور عجب نہیں کہ مقصد سوم میں اس کی بعض کی طرف عودہو۔والعود احمد ( اور عود کرنا اچھا ہے۔ ت) وباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی التوفیق۔
حدیث (٤٦): صحیح بخاری شریف وغیرہ میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سےمروی:
|
اطلع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علی اھل القلیب فقال وجدتم ما وعد ربکم حقافقیل لہ اتدعوا مواتا فقال ما انتم باسمع منہم |
یعنی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم چاہ بدر پر تشریف لے گئے۔ جس میں کفار کی لاشیں پڑیں تھیں۔۔ پھر فرمایا: تم نے پایا جو تمھارے رب نے تمھیں سچا وعدہ دیاتھا۔ یعنی عذاب ۔ کسی نے عرض کی: حضور مُردہ کو پکارتے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع