30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ: ا س حدیث کے یہ معنی کہ بوجہ برکتِ جمعہ ان تین د ن میں ان کے علم وادراك کو زیادہ وسعت دیتے ہیں، جو معرفت وشناسائی انھیں ان روزں میں ہوتی ہے اور دنوں سے بیش وافزوں ہے نہ یہ کہ صرف یہی تین دن علم وادراك کے ہوں، ابھی سن چکے کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی احادیث کثیرہ مطلق ہیں جن میں بلاتخصیص ایام ان کا علم وادراك ثابت فرمایا۔ تصریح اس معنی کی ان شاء اﷲ مقصد سوم میں مذکور ہو گی۔
فصل پنجم: میں وہ جلیل حدیثیں جن سے ثابت کہ سماعِ اہل قبور سلام ہی پر مقصود نہیں بلکہ دیگر کلام و اصوات بھی سنتے ہیں:
حدیث (٤٠): بخاری ومسلم و ابوداؤد وترمذی ونسائی اپنے صحاح اور امام احمد مسند میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور پر نور سید العالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
واللفظ لمسلم ان المیّت اذا وضع فی قبرہ انہ یسمع خفق نعالھم اذا انصرفوا۔١[1] |
(مسلم کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) مردہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں بیشك وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتاہے۔ |
حدیث (۴۱): احمد و ابوداؤد بسند جید براء بن عازب رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
|
ان المیّت یسمع خفق نعالھم اذاولو امدبرین ٢[2]۔ |
بیشك مردہ جوتیوں کی پہچل سنتا ہے جب لوگ اسے پیٹھ دے کر پھرتے ہیں۔ |
حدیث (۴۲): بیہقی وطبرانی عبداﷲ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی، سرورِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
|
ان المیّت اذا دفن یسمع خفق نعالھم اذا ولّوا عنہ منصرفین [3]۔ |
بیشك جب مردہ دفن ہوتاہے اور لوگ واپس آتے ہیں وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔ |
حدیث بیہقی کو امام سیوطی نے شرح الصدور میں فرمایا: باسناد حسن[4] (اس کی سند حسن ہے۔ ت)اور سند
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع