30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کہا گیا ۔ ذرا آنکھیں مل کر ملاحظہ ہو آگے ان پتھروں سے کچھ کلام وخطاب بھی نظر آتے ہیں کہ تم ہمارے سلف ، ہم تمھارے خلف، ہم ان شاء اﷲ تعالٰی تم سےملیں گے۔ اس سارے کلام پر ابوزرین رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی: یارسول اﷲ ! کیا وہ سنتے ہیں؟ فرمایا: ہاں سنتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ اس حدیث کے بعد امام سیوطی کا وہ قول بھی نقل کر گئے کہ حدیث میں جواب نہ دینے سے یہ مراد ہے۔ ورنہ اموات واقع میں جواب دیتے ہیں سبحان اﷲ سلام بھی سنیں، کلام بھی سنیں، جواب بھی دیں۔اور پھر پتھر کے پتّھر، انا اﷲ واناّ الیہ راجعون۔
سچ فرمایا مولوی معنوی قدس سرہ، نے: ع
ماسمیعیم وبصیریم وخوشیم باشمانا محرماں ماخامشیم [1]
( ہم سمیع وبصیر ہیں اور خوش ہیں مگر تم نامحرموں کے سامنے مہر بہ لب ہیں۔ ت)
حدیث (٣٦):طبرانی معجم اوسط میں عبداﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مصعب بن عمیر اور ان کے ساتھیوں کے قبور پر ٹھہرے اور فرمایا:
|
والذی نفسی بیدہ لایسلم علیہم احد الا ردوا الٰی یوم القیمۃ [2]۔ |
قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت تك جو ان پرسلام کرے گا جواب دیں گے، |
حدیث (٣٨): بعینہ اسی طرح حاکم نےصحیح مستدرك میں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کر کے تصحیح کی۔
حدیث (۳۸):حاکم مستدرك میں با فادہ تصحیح اور بیہقی دلائل النبوۃ میں بطریق عطاف بن خالد مخزومی عبد الاعلٰی بن عبد اﷲ سے وہ اپنے والد ماجد عبداﷲ بن ابی فروہ سے راوی، حضور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم زیارت شہدائے احد کو تشریف لے گئے اور عرض کی:
|
الھم ان عبدك ونبیك یشھد ان ھٰؤلاء شہداء وانہ من زارھم اوسلم علیھم الٰی یوم القٰیمۃ ردوا علیہ [3]۔ |
الٰہی! تیرا بندہ اورتیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہید ہیں اور قیامت تك جو ان کی زیارت کو آئے گا اور ان پر سلام کرے گا یہ جواب دیں گے۔ |
تتمہ حدیث: عطاف کہتے ہیں میری خالہ مجھ سے بیان کرتی تھیں میں ایك بار زیارت قبور شہداء کوگئی میرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع