30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بول نہیں سکتی کہ شور وفریاد سے منع کرے۔ اس کے معنٰی بھی وہی ہیں کہ اپنی بات احیاء کو سنا نہیں سکتے، ورنہ صحیح حدیثوں میں اس کا کلام کرنا وارد۔ جیسا کہ حدیث ٣ وغیرہ میں گزرا۔
تنبیہ دوم: فقیر کہتا ہے پھر یہ ہمارا نہ سُننا بھی دائمی نہیں، صدہا بندگانِ خدا نے اموات کا کلام و سلام سنا ہے۔ جن کی بکثرت روایات خود شرح الصدور وغیرہ میں مذکور ۔ اور بعض اسی مقصد میں فقیر نے بھی نقل کیں ا ور عجب نہیں کہ ان شاء اﷲ تعالٰی اپنے محل پر اور بھی مذکور ہوں۔
تنبیہ سوم: بس نافع ومہم۔
اقول: وباﷲ التوفیق طُرفہ یہ ہے کہ جواب سوال نوز دہم میں صاحب مائۃ مسائل نے بھی اس حدیث کو عن القاری عن السیوطی عن العقیلی نقل کیا اور اموات کے لیے سلام احیاء کاسننا مسلّم رکھا [1]۔ اسی قدرے اپنی وہ سب جولانیاں جو زیر سوال ٢٦ کے ہیں باطل مان لیں کہ وہاں جن پانچ عبارتوں سے استناد کیا ان سب میں نفی مطلق ہے۔اسی طرح آیہ کریمہ بفرض غلط نافی سماع ہو تووہاں بھی سلام وکلام کچھ تخصیص نہیں، اور عبارت دوم میں تو صاف منافات موت وافہام مذکور کیا بعض جگہ متنا فیین بھی جمع ہوجاتے ہیں، اور عبارت پنجم میں صریحًا لفظ جمادات موجود، پھر پتھروں کے آگے سلام کلام سب ایك سا۔غرض اگر آیت اور ان عبارات کا وہی مطلب تو سماع سلام کی تسلیم میں ان سب استنادوں کو دفعتًا سلام ہواجاتا ہے۔ پھر ناحق اپنے یہاں حدیث عقیلی سے استناد اور کلمات قاری وسیوطی کی سنئے گا تو بہت کچھ ماننا پڑے گا۔ ان کی تحقیقاتِ قاہرہ وتصریحات باہرہ عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی مقصد ثالث میں جگر شگاف مکابرہ واعتسفاف ہوتے ہیں، ادھر مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیثوں پر کان رکھا اور ارواح گزشتگان کو جماد وسنگ ماننے کا دھرم گیا۔ ذرا خدا لگتی کہنا ایك عقیلی کی حدیث سے آپ نے سماع سلام تو تسلیم کیا، بخاری ومسلم وغیرہ کی احادیث صحیحہ سے جو توں کی پہچل اور ہاتھ جھاڑنے کی اواز اورسلام کے سوا اور انواع کلام بھی سننا اورا ن پتھروں کا اپنے زائروں کوپہچاننا ، ان کا جواب سلام دینا اور ان سے اُنس حاصل کرنا، اور ان کے سوا صدہا امور جو ثابت ومذکورہ وہ کس جی سے مانئے گا، یا وہاں پھر فالف بعض الحدیث وکان ببعض(کسی حدیث کا الف اور کسی حدیث کا کاف لیجئے گا۔ ت) کی ٹھہرے گی، علاوہ بریں خود یہ حدیث عقیلی اس تخصیص سلام کے رَد کو کیا تھوڑی ہے۔ یہاں بھی اموات سے فقط السلام علیکم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع