30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فصل چہارم: میں وہ احادیث جن میں صراحۃً وارد کہ مُردے اپنے ائرین کو پہچانتے اور ان کا سلام سنتے اور انھیں جواب دیتے ہیں۔
حدیث (٣٣): امام ابو عمر ابن عبدالبرکتاب الاستذکار والتمہید میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
مامن احدیمر بقبرا خیہ المؤمن کان یعرفہ فی الدنیا فیسلم علیہ الاعرفہ ورد علیہ السلام[1] ۔ |
جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی قبر پر گزرتا اور ا سے سلام کرتا ہے اگر وہ اسے دنیا میں پہچانتا تھا اب بھی پہچانتا اور جواب سلام دیتا ہے۔ |
امام ابو محمد عبدالحق کہ اجلہ علمائے حدیث سے ہیں ا س حدیث کی تصحیح کرتے ہیں [2]، ذکرہ الامام السیوطی فی شرح الصدور والفاضل الزرقانی فی شرح المواھب (اسے امام سیوطی نے شرح الصدور میں اور علامہ زرقا نی نے شرح مواہب میں ذکر کیا۔ ت) اسی طرح امام ابوعمر سید علامہ سمہودی نے ا س کی تصحیح فرمائی، ذکرہ الشیخ المحقق فی جامع البرکات وجذب القلوب (اسے شیخ محقق نے جامع البرکات اور جذب القلوب میں ذکر فرمایا ہے۔ ت) امام سبکی شفاء السقام میں یہ حدیث لکھ کر فر ماتے ہیں:
|
ذکرہ جماعۃ وقال القرطبی فی التذکرۃ ان عبد الحق صححہ ورویناہ فی الخلعیات من حدیث ابی ھریرۃ ایضا[3] انتہی |
اسے ایك جماعت نے ذکر کیا اور اما م قرطبی نے تذکرہ میں لکھا ہےکہ امام عبد الحق نے اسے صحیح کہا اور خلعیات میں اسے ہم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بھی بیان کیا ہے انتہی (ت) |
قلت وستسمع ذلك (میں نے کہا: وہ حدیث آگے سنو گے)
حدیث (٣٤): ابن ابی الدنیا وبیہقی وصابونی وابن عساکر وخطیب بغدادی وغیرہم محدثین ا بوہریرہ رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
اذا مر الرجل بقبر یعرفہ فسلم علیہ رد علیہ السلام وعرفہ |
جب آدمی ایسی قبر پر گزرتاہے جس سے دنیا میں شناسائی تھی اور اسے سلام کرتا ہے میّت جوابِ سلام دیتا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع