30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث (٢٨): امام احمد ابوالربیع سے راوی:
|
کنت مع ابن عمر فی جنازۃ فسمع صوت انسان یصیح فبعث الیہ فاسکتہ فقلت لم اسکتہ یا ابا عبدالرحمن قال انہ یتاذی بہ المیّت حتی یدخل فی قبرہ [1]۔ |
میں عبداﷲا بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے ساتھ ایك جنازہ میں تھا کسی کے چلانے کی آواز سنی، آد می بھیج کر اسے خاموش کرادیا، میں نے عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! آپ نے اسے کیوں چپایا، فرمایا: اس سے مردے کو ایذا ہوتی ہے یہاں تك کہ قبر میں جائے۔ |
حدیث (٢٩): امام سعید بن منصور اپنے سنن میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
انہ رأی نسوۃ فی جنازۃ فقال ارجعن مازورات غیر مأجورات ان کن لتفتن الاحیاء وتؤذین الاموات [2]۔ |
یعنی انھوں نے ایك جنازے میں کچھ عورتیں دیکھیں اورا رشاد فرمایا پلٹ جاؤ گناہ سے بوجھل ثواب سے اوجھل۔ تم زندوں کو فتننے میں ڈالتی اور مردوں کو اذیت دیتی ہو۔ |
تنبیہ: سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو حدیث صحیح مشہور میں فرمایا: المیّت یعذب ببکاء الحی علیہ[3] زندوں کے رونے سے مردے پر عذاب ہوتا ہے ۔ جسے امام احمد وشیخین نے ۱عمر فاورق و۲عبداﷲ بن عمر و۳ مغیرہ بن شعبہ، اور ابو یعلٰی نے ۴ابوبکر صدیق و ۵ابوہریرہ، اور ابن حبان نے ۶انس بن مالك و۷عمران بن حصین اور طبرانی نے ۸سمرہ بن جندب سے روایت کیا۔ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین، ایك جماعت ائمہ کے نزدیك اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ زندوں کے چلانے سے مردوں کو صدمہ ہوتا ہے۔ امام اجل سیوطی نے شرح الصدور میں اس معنٰی کو ایك حدیث مرفوع سے مؤید کرکے فرمایا امام ابن جریر کا یہی قول ہے، اور اسی کوایك گروہِ ائمہ نے اختیار فرمایا ، پھر اس کی تائید میں یہ دو۲ حدیثیں ابن مسعود وابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم کی کہ ہم نے بیان کیں۔ ذکرفر مائیں، اس تقدیر پر اراشاد اقدس المیّت یعذب، الحدیث کی آٹھوں روایتیں بھی یہاں شمار کے قابل تھیں مگر ازانجا کہ علماء کو اس کے معنی میں بہت اختلاف ہے۔ نہ ہمارا قصد وحصر واستیعاب۔ لہٰذا انہیں معد ود نہ کیا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
حدیث (۳۰): ابن ابی شیبہ اپنے مصنف میں سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
|
اذی المؤمن فی موتہ کاذاہ |
مسلمان کو بعد موت ایذ دینی ایسی ہے جیسے زندگی میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع