30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی لیے علماء فرماتے ہیں دنیا کو برزخ سے وہی نسبت ہے جو رحمِ مادر کو دنیا سے۔ پھر برزخ کو آخرت سے یہی نسبت ہے جو دنیا کو برزخ سے ۔ اب اس سے برزخ ودنیا کے علوم و ادراك میں فرق سمجھ لیجئے، وہی نسبت چاہئے جو علم جنین کو علکم اہل دنیا سے، واقعی روح طائر ہے اور بدن قفس،ا ور علم پرواز، پنجرے میں پرند کی پَر فشانی، کتنی؟ ہاں، جب کھڑکی سے باہر آیا اس وقت اس کی جو لاناں قابل دید ہیں،
حدیث (٣): صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابو سعید خُدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اذا وصف الجنازہ واحتملھا الرجال علٰی اعناقھم، فان کانت صالحۃ قالت قد مونی وان کانت غیر صالحۃ قالت لاھلہا یا ویلھا ان تذھبو بھا بسمع صوتھا کل شیئ الا الانسان ولو سمع الانسان لصعق[1]۔ |
جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور مرد اسے اپنی گردنوں پر اٹھا تے ہیں، اگر نیك ہوتا ہے کہتا ہے مجھے آگے بڑھاؤ، اور اگر بد ہوتاہے کہتا ہے ہائے خرابی اس کی کہاں لیے جاتے ہو، ہرشے اس کی آواز سنتی ہے مگر آدمی کہ وہ آدمی وہ سُنے تو بیہوش ہوجائے۔ (ت) |
اقول: اگر چہ اہلسنت کا مسلك ہے کہ نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول ہوں گے۔ جب تك کہ اس میں محذور نہ ہو۔ لہذا ہم اس کلامِ جنازہ کو یوں بھی کلام حقیقی پر محمول کرتے ہیں، مگر بحمد اﷲ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان پچھلے لفظوں سے نص کر مفسر فرمادیا کہ ہر شے اس کی آواز سنتی ہے اب کسی طرح مجال تاویل وتشکیك باقی نہ رہی، وﷲ الحمد!
حدیث (٤): ابو داؤد طیالسی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مرفوعًا روایت کیا: اذا وضع المیّت علٰی سریرہ [2]۔ الحدیث مانند حدیث ابوسعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
حدیث (٥): امام احمد وابن ابی الدنیا وطبرانی ومروزی وابن مندہ ابو سعید خدری رضی ا ﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
ان المیّت یعرف من یغسلہ ویحملہ ومن یکفنہ ومن یدلیہ فی حفرتہ [3] ۔ |
بیشك مُردہ پہچانتا ہے اسے کو غسل دے اور جو اٹھائے اور جو کفن پہنائے او رجو قبر میں اتارے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع