30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے موقوف اور امام اجل احمد بن حنبل اپنی مسند اور طبرانی معجم الکبیر اور حاکم صحیح مستدرك اور ابو نعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور پر نور سید عالم صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مرفوعًا راوی:
|
والموقوف ابسط لفظا واتم معنی وانت تعلم انہ فی الباب کمثل المرفوع وھذا لفظ امام ابن المبارك قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی سجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض ویتفسح فیھا١[1]۔ولفظ ابی بکر ھکذا الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر فاذا مات المومن یخلی سربہ یسرح حیث شاء [2]۔ |
(اور حدیث موقوف لفظًا زیادۃ مبسوط اور معنًا زیادہ تام ہے۔ اور معلوم ہے کہ اس باب میں موقوف بھی مرفوع کا حکم رکھتی ہے۔ اور یہ روایت امام ابن مبارك کے الفاظ ہیں۔ ت) بیشك دنیا کافر کی جنت اور مسلمان کی زندان ہے، اور ایمان والے کی جب جان نکلتی ہے توا س کی کہاوت ایسی ہے جیسے کوئی قید خانہ میں تھا اب اس سے نکال دیا گیا کہ زمین میں گشت کرتاا ور بافراغت چلتا پھرتا ہے۔(اور روایت ابوبکر کے الفاظ یہ ہیں۔ ت) دنیا مسلمان کا قید خانہ او رکافر کی بہشت ہے۔ جب مسلمان مرتاہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے سیر کرے۔ |
حدیث (٢): سیدی محمد علی ترمذی انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
ماشبھت خروج المومن من الدنیا الامثل خروج الصبی من بطن امہ من ذٰلك الغم والظلمۃ الٰی روح الدنیا [3]۔ |
یعنی دنیا سے مسلمان کا جانا عــــہ ایسا ہے جیسے بچے کا ماں کے پیٹ سے نکلنا اس دم گٹھنے اور اندھیری کی جگہ سے اس فضائے وسیع دنیا میں آنا۔ |
عــــہ فائدہ: اسی کے موید دو ٢ حدیثین اور ہیں مرسل سلیم بن عامر و بن دینار سے اخرجھا ابن ابی الدنیا (ابن ابی الدنیا نے ان دونوں کو روایت کیا ہے۔ ت) (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع