30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واٰیت النفی معناھا سماع ھدی لایقبلون ولا یصغون للادب [1]۔ |
اور آیت نفی کامعنی سماع ہدایت ہے یعنی وہ قبول نہیں کرتے اور ادب کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ (ت) |
امام ابوالبرکات نسفی نے تفسیر مدارك التنزیل میں زیر آیہ سورہ فاطر میں فرمایا:
|
شبہ الکفار بالموتی حیث لا ینتفعون بمسموعھم [2]۔ |
کفار کو مُردوں سے تشبیہ دی اس لحاظ سے کہ وہ جو سنتے ہیں اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ (ت) |
مولانا علی قاری نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا:
|
النفی منصب علی نفی النفع لاعلی مطلق السمع [3]۔ |
مطلق سننے کی نفی نہیں بلکہ معنٰی یہ ہے کہ ان کاسننا نفع بخش نہیں ہوتا۔ (ت) |
جواب سوم : مانا کہ اصل سماع ہی منفی مگر کس سے ، موتٰی سے، موتٰی کون ہے؟ ابدان، کہ روح تو کبھی مرتی ہی نہیں، اہل سنت وجماعت کا یہی مذہب ہے جس کی تصریحات بعونہٖ تعالٰی تمہید وفصلہ اول ودوم، نوع اول مقصد سوم میں آئیں گی۔ ہاں کسی سے نفی فرمائی؟ من فی قلبور سے یعنی جو قبر میں ہے۔ قبر میں کون ہے؟ جسم ، کہ روحیں تو علّیّین یا جنّت یا آسمان یا چاہِ زمزم وغیرہا مقامات عزوکرام میں ہیں، جس طرح ارواح کفار سجین یا نار وادی برہوت وغیرہا مقامات ذلت واآلام میں۔ امام سبکی شفاء السقام میں فرماتے ہیں:
|
لاندعی ان الموصوف بالموت موصوف بالسماع انما السماع بعد الموت لحی وھو الروح [4]۔ |
ہم یہ دعوٰی نہیں کرتے کہ جو موت سے متصف ہے وہی سننے سے بھی متصف ہے، مرنے کے بعد سننا ایك ذی حیات کا کام ہے جو روح ہے۔ (ت) |
شاہ عبدالقادر صاحب برادر حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب موضح القرآن میں زیر کریمہ وما انت بمسمع من القبور فرماتے ہیں: حدیث میں آیا ہے کہ"مردوں سے سلام علیك کرو، سنتے ہیں، بہت جگہ مردوں کوخطاب کیاہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ مردے کی روح سنتی ہے اور قبر میں پڑا ہے دھڑ، و ہ نہیں سُن سکتاہے [5]۔
[1] السیرۃ الحلبیۃ باب غزوۃ الکبرٰی المکتبۃ الاسلامیۃ بیروت ٢/١٨٢
[2] تفسیر مدارك التنزیل تحت سورہ ٣٥ آیت ٢٢ دارالکتاب العربیۃ بیروت ٣/٣٣٩
[3] مرقاۃ المصابیح باب حکم الاسراء مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ٧/٥١٩
[4] شفاء السقام الباب التاسع الفصل الخامس نوریہ رضویہ سکھر ص٢٥٩
[5] موضح القرآن تحت سورہ ٣٥ آیت ٢٢ ناشران قرآن مجید لمٹیڈ، اردو بازار لاہور ص٦٩٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع