30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِنَّ اللہَ یُسْمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ [1](بیشك اﷲ جسے چاہتاہے سناتا ہے۔ ت) وہی حاصل ہو ا کہ اہل قبور کا سُننا تمھاری طرف سے نہیں اﷲ عز وجل کی طرف سے ہے۔مرقاہ شرح مشکوٰۃ میں ہے:
|
الاٰیۃ من قبیل اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ[2]۔ |
یہ آیت اس آیت کی قبیل سے ہے۔ بیشك تم ہدایت نہیں دیتے مگر خدا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ (ت) |
جواب دوم: نفی سماع ہی مانو تو یہاں سے سماع قطعًا بمعنی سمعِ قبول وانتفاع ہے۔ باپ اپنے عاق بیٹے کو ہزار بار کہتا ہے ، وہ میری نہیں سنتا۔ کسی عاقل کے نزدیك اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃً کان تك آواز نہیں جاتی۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا توہے، مانتا نہیں، اور سننے سے اسے نفع نہیں ہوتا، آیہ کریمہ میں اسی معنے کے ارادہ پر ہدایت شاہدکہ کفار سے انتفاع ہی کا انتفا ہے نہ کہ اصل سماع کا ۔ خود اسی آیہ کریمہ اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰیکے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے عزو جل :
|
اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ مُّسْلِمُوۡنَ ﴿۸۱﴾ [3]۔ |
تم نہیں سناتے مگر انھیں جو ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں۔ |
اورپُر ظاہر کہ پندو نصیحت سے نفع حاصل کا وقت یہی زندگی دنیا ہے۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل قیامت کے دن سہی کافر ایمان لے آئیں گے ، پھر اس سے کیا کام F6ɼ ¾[4](کیااب جبکہ اس سے پہلے نافرمان ہے۔ ت) توحاصل یہ ہو کہ جس طرح اموات کو وعظ سے انتفاع نہیں، یہی حال کافروں کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں مانتے۔ علاّمہ حلبی نے سیرت انسان العیون میں فرمایا:
|
السماع المنفی فی الایت بمعنی السماع النافع وقد اشار الٰی ذلك الحافظ الجلال السیوطی بقولہ ؎ سماع موتی کلام الخلق قاطبۃ حق قد جاءت بہ عندنا الا ثار فی الکتب |
آیت میں جس سننے کی نفی کی گئی ہے وہ سماع نافع کے معنی میںہے،اور اس کی طرف حافظ جلال الدین السیوطی نے اپنے اس کلام سے اشارہ فرمایا ہے: ؎ مردوں کاکلام مخلوق سننا حق ہے، اس سے متعلق ہمارے پاس کتابوں میں آثار وارد ہیں۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع