30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسا روپے والوں کی قبروں میں ہے۔ تو آدمی کو چاہئے کہ وہیں جائے جہاں دو آنے زیادہ پائے، اناّ ﷲ وانا الیہ راجعون
مخالفت (٢): مولوی صاحب وقت زیارت قبور درود و فاتحہ پڑھ کر اموات کو ثواب بخشنا مند وب ومسنون فرماتے ہیں۔ بہت اچھا، قرآن وحدیث سے درود فاتحہ کی خصوصیت ثابت کردکھائیں، یا قرون ثلاثہ میں اس تخصیص کا رواج بتائیں، ورنہ ندب واستنان درکنار اصول طائفہ پر کل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار [1]میں داخل ٹھہرائیں۔
مخالفت (٣): سوال سائل میں درود وفاتحہ دونوں کامعًا پڑھنا مذکورتھااور اسی پرحضرت کا جواب وراد۔ بالفرض اگر فرد ًا فردًا ان کا پڑھنا ثابت بھی فرمالیں تواصول طائفہ پرہیأت اجتماعیہ محل میں کلام رہیں گے۔ اس بناپر آپ کو حکم بدعت دینا تھا۔ یا تسلیم فرمائیے کہ بعد حسن احادحسن مجموعہ میں کلام نہیں جب تك خصوصی اجتماع میں کوئی مفسدہ نہ ہو۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) تمھا رابیان حق ہے تو واجب تھا کہ حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اگر قبور اُحد و بقیع پر سوباررونق افروز ہوئے تو باد شاہوں جباروں کے مقابر پر دو سو بار تشریف لے گئے ہوتے تا کہ امت کو اختیار نفع وافضل کی طرف ارشاد فرمائے یا نہ سہی۔برابرہی سہی ، کم ہی سہی، کبھی ہی سہی، ایك ہی بار ثابت کردو کہ حضور اقدس صلی ﷲ تعلی علیہ وسلم کسی بادشاہ کی خاك پر تشریف فرما ہوئے ہوں یا قبرغنی کی بوجہ غناء تخصیص فرمائی ہوپھرسخت عجب ہے کہ جس خاص امرکے لیے حضورنے زیارت قبورجائز فرمائی اس کا حصول جہاں بیشتر اور منفعت شرعیہ اتم واوفر اُسی کو دائمًا ترك فرمائیں نہ وہ صحابہ کرام میں ہر گز رواج پائے۔ پھر ہرقرن وطبقہ کے اہل اسلام ہمیشہ زیارت مزارات صلحاء کا اہتمام واعتنا رکھیں ، نہ یہ کہ فلاں بادشاہ یاسیٹھ کی گور پر چلو وہاں نفع زائد ملے گا۔ حق یہ ہے کہ مزارات عالیہ حضرات اولیاء کرام قدست اسرارہم پر امر عبرت میں بھی ترجیح، ممنوع او رمشروعیت زیارت کی غرض اس میں منحصر ہونا قطعًا باطل و مدفوع، خود انھیں حضرت کی مظاہر الحق ترجمہ مشکوٰۃ کی بعض عبارات مقصد سوم میں ملیں گے۔ جوظاہر کردیں گی کہ صاحب مائۃ مسائل نسی ماقدمت یداہ ( پہلے جو کچھ لکھ چکے اسے بھول گئے۔ ت) واﷲ سبحانہ وتعالٰی علم ۱۲ منہ سلمہ اﷲ تعالٰی (م)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع