30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
دردین [1]۔ |
مستحسن اور دین میں عام ہے۔ (ت) |
عزیز! یہ نکتہ بہت کار آمد ہے، اور اکثر اوہام وشبہات کا رَد۔ فاحفظ تحفظ وتحظی من الرشد با وفی حظ (اسے یاد رکھو گے تومحفوظ رہوگے اور ہدایت سے بھر پور حصہ پاؤگے۔ ت)
نوع دوم: مخالفات مولوی صاحب وہم مذہبانِ مولوی صاحب میں۔ یہان اس امرکا ثبوت ہوگا کہ مولوی صاحب کی تحریر مذہب منکرین سے بھی موافق نہیں۔ بوجوہ عدیدہ واصول وفروع طائفہ جدیدہ سے صریح مخالفت اور مذہب مہذب اہل حق سے بعض باتوں میں گونہ موافقت فرمائی ہے۔ پھر یہی نہیں کہ صرف ہم مذہبوں ہی سے خلاف ہوں اور خود مولوی صاحب ان مخالفات کا بخوشی التزام فرمالیں۔ نہیں، نہیں، بلکہ بہت وہ بھی ہیں جونا دانستہ سرزد ہوگئیں کہ ظاہر ہوئے پر خود بھی آپ کو گوارا نہ ہوں۔ اور اگر تسلیم فرمالیں توا س سے کیا بہتر۔ دیکھئے تو،یہیں کتنے مسائل نزاعیہ طے ہوئے جاتے ہیں۔
مخالفت (١): مولوی صاحب فرماتے ہیں: زیارتِ قبور مومنین خاصۃً بزرگان دین مندوب ومسنون ہے۔ یہ خصوصیت ہمارے طور پر بیشك حق، مگر صاحب مائۃ مسائل کے بالکل خلاف۔ انھوں نے جو قسم زیارت شرعًا بلا کراہت جائز مانی اس میں مزاراتِ عالیہ حضرات اولیا اور ہر شرابی زنا کار کی قبر یکساں جانی۔ حیث قال (ان کے الفاظ یہ ہیں):
|
دریں قسم زیارت کر دن قبر ولی وغیر ولی وشہید و غیر شہید وصالح وفاسق وغنی وفقیر برابراسست [2]۔ |
اس قسم میں ولی، غیرو لی، شہید،غیر شہید، صالح، فاسق، غنی اور فقیر سب کی قبر کی زیارت یکساں ہے۔ (ت) |
پھر اس برابری پر بھی صبر نہ آیا۔ آگے الٹی ترقی معکوس کرکے فرمایا:
|
بلکہ زیارت قبور اغنیاء وملوك زیادہ ترعبرت حاصل می گردد۔ [3] |
بلکہ مالداروں اور بادشاہوں کی قبر وں کی زیارت سے زیادہ عبرت حاصل ہوتی ہے۔ (ت) |
مطلب یہ کہ جس عــــہ فائدہ کے لیے شرع نے زیارت قبور جائز کی ہے وہ مزارات اولیاء میں ہر گز ایسا نہیں
عــــہ: اقول: وباﷲ التوفیق ان مرد عاقل محرر مائۃ مسائل سے پوچھنا چاہئے کہ اگر(باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع