30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لا متك فانھم قدھلکوا فاتاہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی المنام فقیل لہ ائت عمر فاقرأہ السلام واخبرہ انکم مستقیون [1] الحدیث ۔ |
تعالٰی علیہ وسلم پر حاضر ہو کر عرض کی: یارسول اﷲ! اپنی امت کے لیے اﷲ تعالٰی سے پانی مانگئے کہ وہ ہلاك ہوئے جاتے ہیں۔ رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان صحابی کے خواب میں تشریف لائے اور ارشاد فرمایا عمر (رضی اﷲ عنہ) کے پاس جا کر اسے سلام پہنچا اور لوگوں کو خبر دے کہ پانی آیا چاہتا ہے۔ الحدیث (ت) |
شاہ ولی اﷲ قرۃ العینین میں یہ حدیث نقل کرکے کہتے ہیں: رواہ ابو عمر فی الاستیعاب [2](اسے ابو عمر بن عبدالبر نے استیعاب میں روایت کیا۔ ت)
تنبیہ نبیہ: یہ چند حدیثیں ہیں احیائے حقیقی سے طلب دعا میں۔ اور اموات سے طلب کی قدر ے بحث کہ اصل مسئلہ مسئولہ سائل ہے، ان شاء اﷲ تعالٰی مقصدسوم میں مذکور ہوگی۔ یہاں ایك نکتہ ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو بات شرك ہے اس کے حکم میں احیاء واموات وانس وجن وملائك وغیر ہم تمام مخلوق الٰہی یکساں ہیں کہ غیر خدا کوئی ہو خدا کا شریك نہیں ہوسکتا تو امور شرك میں حیات وموت تفرقہ، جیسا کہ اس طائفہ جدیدہ کا شیوہ قدیمہ ہے۔ دائرہ عقل وشرع دونوں سے خروج، کیا زندے خدا کے شریك ہوسکتے ہیں،صرف شراکت اموات ہی ممنوع ہے۔ مولوی صاحب اپنی مقیس علیہ یعنی قسم غیر کو ملاحظہ کریں کہ حلال نہیں تو مردے زندے کسی کے لیے حلال نہیں، یو نہی اگر طلب دعامیں شرك ہوتو ہرگز یہ حکم فقط اموات سے خاص نہ ہوگابلکہ یقینا احیاء سے دعا کرانی بھی حرام ٹھہرے گی کہ خدا کا شریك نہ ہوسکنے میں زندے مُردے سب ایك سے۔ ولہٰذا شیخ الشیوخ علمائے ہند مولٰنا وبرکتنا سیدی شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی قدس اﷲ سرّہ العزیز نے شرح مشکوٰۃ شریف میں فرمایا:
|
اگر ایں معنی کہ درامداد و استمداد ذکر کر دیم موجب شرك و توجہ بماسوائے حق باشد چنانکہ منکر زعم می کہ کند پس باید کہ منع کردہ شود، توسل وطلب دعا ازصالحان و دوستان خدا درحالت حیات نیز وایں ممنوع نیست بلکہ مستحب ومستحسن است باتفاق وشائع است |
یہ معنٰی جو ہم نے امداد اور مدد طلبی میں بیان کیا اگر شرك کا موجب اور غیر کی طرف توجہ قرار پائے ، جیسا کہ منکر خیال رکھتا ہے تو چاہئے کہ صالحین اور اولیاء اﷲ سے زندگی میں بھی توسل اور دعا طلبی سے منع کیا جائے حالانکہ یہ ممنوع نہیں بلکہ بالاتفاق مستحب و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع