30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الجملہ وجہ معقولیت دارد۔ گوسالہ لایعقل کہ دربلادت وحمق ضرب المثل است ہیچ وجہ شایان تعظیم نیست۔[1] |
مالك ہو فی الجملہ ایك وجہ معقولیت رکھتی ہے مگر بے عقلی گائے کا بچھڑا جو بلادت اور بیوقوفی میں ضرب المثل ہے کسی طرح قابل تعظیم نہیں۔ (ت) |
سوال (٢٤): یہ تو آیندہ عرض کروں گاکہ طلب دعا کو اعتقاد نفع وضرر سے کتنا تعقل۔ بالفعل اسے یونہی فرض کرکے گزارش کرلوں کہ دعا منگوانے میں تووہ اعتقاد نفع وضرر نکلا، جو معنًی شرک۔ حالانکہ وہ خود ان سے کسی حاجت کی خواستگار ی نہیں۔ پھر:
(١) ان کے مزارات عظیمہ البرکات پر حاضر ہوکر خود ان سے بھیك مانگنا۔
(٢) یا رُوح یا رُوح پکار کر ان کے فیض کا منتظر رہنا۔
(٣) اپنی مشکلوں کا ان سے حل چاہنا۔
(٤) بیمار پڑیں تو شفاء ملنے کوان کی طرف توجہ کرنا کہ ابھی صنفِ سابق میں منقول ہوئے ان میں کتنا اعتقاد نفع و ضرر ثابت ہوتاہے ۔اور
(٥)لفظ انتفاع واستمداد خود بمعنے نفع یافتن وفائدہ خواستن، اس کا قصد بے اعتقاد نفع ، کس عاقل سے معقول، ہاں ہاں، انصا ف کیجئے تودعا طلبی سے دریوزہ گری وحاجت خواہی کہیں زیادہ ہے، اس میں صرف نیت سائل پر مدار تفرقہ ہے۔ اگر سبب ظاہری ومظہر عون باری جا نا تو خالص حق، اور معاذاﷲ مستقل مانا تونرا شرک، بخلاف طلب دعا کہ وہاں نفس کلام مطلوب منہ کی غلامی وبندگی اور حضرت غنی جل جلالہ، کی طرف محتاجی پر دلیل واضح ۔ یہاں تك کہ توہّم استقلال سے اس کا اجتماع محال کما لا یخفٰی علی اولی النہٰی (جیسا کہ اہل عقل پر مخفی نہیں۔ ت) بااینہمہ اگر یہ شرك ہے تو اس کے لیے تو کوئی لفظ مجھے شرك سے بدتر ملتا بھی نہیں جس کا مصداق ٹھہراؤں ع ؎
ضاق عن وصفکم نطاق البیان
(آپ کے وصف سے بیان کا دائرہ تنگ ہے۔ ت)
سوال (٢٥): اگر مان بھی لیں کہ غیر خدا کی قسم اس لیے حرام ہوئی تو اس کو مسئلہ دائرہ سے کیا علاقہ۔ کیا کسی سے دعا کے لیے کہنے میں بھی اسی طرح کے نفع وضرر کا اعتقاد ظاہر ہوتا ہے جو معنًا شرك ہے۔
(١) خود مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے دعا چاہی
[1] تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ بیان رفتن موسٰی علیہ السلام برائے آورد ن کتاب الخ افغانی دارالکتب لال کنواں دہلی٢٣٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع