30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فروغ چشمِ اگاہی امیرالمومنین حیدر زانگشت ید اﷲ ی امیرالمومنین حیدر بجناب ایشاں عرض نمودم نواز شہا فرمود ند اھ[1]۔ |
چشم معرفت کو روشنی عطا ہو اے امیر المومنین حیدر خدائی ہاتھ والی انگشت سے اے امیرالمومنین حیدر حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا تو بڑی نوازشیں فرمائیں اھ (ت) |
اقول: اولًا جب جناب مرزا صاحب امراض میں بارگاہ مشکل کشائی کی طرف توجہ کرتے تھے انھیں کیاخبر تھی کہ حضرت مولا علی کرم اﷲ وجہ الاسنی ا س وقت میری طرف متوجہ ہیں یا میری طرف سے التفات فرمائیں گے۔
ثانیًا یو نہی جب قصیدہ عرض کرنے بیٹھے، کیا جانتے تھے کہ حضرت والا اس وقت سن لیں گے، تو ان سب اوقات میں بے حصول علم، مرتکب عرض وتوجہ ہو کر انھوں نے جناب اسد اللّٰہی کو سمیع وبصیر علی الاطلاق ٹھہرایا، اور حضرت کے طورپر وہ برا لقب پایا یا نہیں۔
ثالثًا مزار پر جا کر کلام وخطاب تو وہ آفت تھا، مرزا صاحب جو بے حضور مزار ہی توجہیں کرتے قصیدے سناتے ا ن کے لیے حکم کچھ زیادہ سخت ہوگا یا نہیں۔
رابعًا اس نیازی خاص پر بھی نظر رہے کہ یہ معالجہ کرے گا ان جُہال کے وہم کا جو"نیاز"کے لفظ کو خاص بجناب بے نیاز مانتے ، اور اسی بنا پر فاتحہ فائحہ حضرات اولیاء کو نیاز کہنا شرك وحرام جانتے ہیں،
خامسًا یہ بڑی گزارش تو باقی ہی رہ گئی کہ دفع امراض کے لئے ارواح طیبہ کی طرف توجہ استمدادبالغیر تو نہیں۔ اور جناب کے نزدیك بھلا ایسا شخص اتباعِ شریعت میں یکتا وبے نظیر جیسا کہ شاہ ولی اﷲ صاحب نے کہا تھا، بالائے طاق، سرے سے متبع سنت بلکہ ازروئے ایمان، تقویۃ الایمان، راسًا مسلم وموحد کہاجائے گا یانہیں
سوال (١٩): شاہ ولی اﷲ کے والد شاہ عبد الرحیم صاحب کی نسبت کیا حکم ہے؟ وہ بھی ا س شرك عالمگیر سے محفوظ نہ رہے۔ شاہ ولی اﷲ صاحب قول الجمیل میں لکھتے ہیں:وایضا تادب شیخنا عبدالرحیم علی روح جدہ لامہ الشیخ رفیع الدین محمد [2]۔شفاء العلیل میں اس کا ترجمہ یوں کیا:"اور بھی ہمارے مرشد شاہ عبدالرحیم ادب آموز ہوئے اپنے نانا شیخ رفیع الدین کی روح سے۔"اور حاشا یہ فیض یوں نہ تھا کہ ادھر سے بے طلب آیا ہو، بلکہ یہی جاکر قبر پر متوجہ ہوا کرتے۔ خود شاہ ولی اﷲ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع