30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
؎ غوثِ اعظم بمن بے سر وساماں مددے
قبلہ دیں مددے کعبہ ایماں مددے
(غوث اعظم! مجھ بے سروسامان کی مدد فرمائیں، قبلہ دیں! مدد فرمائیں، کعبہ ایمان ! مدد فرمائیں)
سوال (١٦): اُسی تفسیر عزیزی میں دفن کو نعمت الہٰی ٹھہرا کر اس کے منافع وفوائد میں لکھتے ہیں:
|
ازاولیائے مدفونین انتفاع واستفادہ جاریست [1]۔ |
مدفون اولیاء سے نفع پانا اور فائدہ طلب کرنا جاری ہے۔ (ت) |
اقول اولًا انتفاع تك خیر تھی کہ بے مقصد منتفع بھی ممکن، استفادہ نے غضب کردیا کہ وہ نہیں مگر طلب فائدہ، پھر کیا اچھا نفع دفن میں نکالا کہ بند گانِ خدا بے حصول علم مرتکب سوال ہو کر معاذاﷲ مشرك ہوتے ہیں ۔
ثانیًا لفظ"جاری ست"پر لحاظ رہے کہ اس سے مراد نہیں مگر مسلمانوں میں جاری ہونا، اور جو مسلمانوں میں جاری ہر گز شرك نہیں کہ جن میں شرك جاری ہر گز مسلمان نہیں۔
سوال (١٧): مرزا مظہر جانجاناں صاحب جنھیں شاہ ولی اﷲ صاحب اپنے مکاتیب میں قیم طریقہ احمدیہ و داعی سنت نبویہ لکھتے ہیں، اور حاشیہ مکتوبات ولویہ پر انھیں شاہ صاحب سے ان کی نسبت منقول ہند و عرب وولایت میں ایسا متبع کتاب وسنت نہیں سلف میں بھی کم ہوئے اھ ملخصا مترجمًا، یہ مرزا صاحب اپنے ملفوظات میں تحریر فرماتے ہیں:
|
نسبت مابجناب امیر المومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ می رسد، وفقیر رانیازی خاص بآنجناب ثابت است۔ دروقت عروض عارضہ جسمانی توجہ بآنحضرت واقع می شود وسبب حصول شفامی گردد [2]۔ |
امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کی بارگاہ تك نسبت پہنچتی ہے اور فقیر کو اس جناب سے خاص نیاز حاصل ہے، جب کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو آنحضور کی جانب میری توجہ ہوتی ہے اور شفایابی کا سبب بنتی ہے۔ (ت) |
سوال (١٨): آگے فرماتے ہیں:
|
یکبار قصیدہ کہ مطلعش اینست ؎ |
ایك بار وہ قصیدہ جس کا مطلع یہ ہے: ؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع