30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوا ، عموم واطلاق توبالائے طاق۔
سوال (٨): بغرض لزوم سماع کلام کو مطلق بصر درکار۔ جو رویتِ مخاطب سے حاصل، یابصرعلے الاول ملازمت باطل، وعلی الثانی لازم کہ تمام مخلوق الہٰی بہری اور کسی بات کا سننا کسی غیر خدا کے لیے ماننا مطلقا مستلزم شرك ہو، تو سب مشرك ہیں، یا ہر ذی سمع، بصیر علے الاطلاق تو آفت اشد ہے۔ والعیاذ باﷲ۔
سوال (٩): ان اولیاء کی زیاررت ادراك اگر اسے مستلزم نہیں کہ ہر کلام زائر سن لیں تو اسے بھی نہیں کہ سب کو نہ سنیں آپ خود عدم استلزام فرماتے ہیں، نہ استلزام عدم، تو دونوں صورت میں محتمل رہیں، پھر ایك امر محتمل پر جزم شرك کیونکر ہوسکتا ہے، غایت یہ کہ بے دلیل ہو تو غلط سہی، کیا ہر غلط بات شرك ہوتی ہے!
سوال (١٠): مجھے نہیں معلوم کہ قرآن عظیم میں ایك جگہ بھی بیان فرمایا ہو کہ مزارات پر جاکر کلام وخطاب کرنا شرك یاحرام ہے۔ یا اتناہی ارشادہو اہو۔ جو ایسا کرتا ہے گویا اصحاب قبور کو سمیع یا بـصیر علے الاطلاق مانتاہے۔ اور حضرات کی صحتِ استدلال انھیں امور پر مبنی، آپ فرماتے ہیں فرقان حمید میں، بمقامات متعددہ اس کا بیان بتصریح تام موجود، میں مقاماتِ متعدد ہ کی تکلیف نہیں دیتا۔ ایك ہی آیت فرما دیجئے جس میں صاف صاف مضمون مذکور مزبور ہو۔ بینوا توجروا
سوال (١١): سورہ یوسف کی آیۂ کریمہ کہ تلاوت فرمائی اس کا ترجمہ ومطلب میں کیوں عرض کروں مولوی اسمٰعیل سے سنئے ۔ تقویۃ الایمان میں لکھا ہے :"نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ مگر کہ شرك کرتے ہیں [1]یعنی اکثر لوگ جو دعوٰی ایمان کا رکھتے ہیں سو وہ شرك میں گرفتار ہیں"ا نتھی
خدارا س میں مزارات اولیاء پر جانے یا ان سے کلام و خطاب کرنے کا کون سا حرف ہے۔ استغفراﷲ ! نام کو بو بھی نہیں، تصریح تام تو بڑی چیز ہے۔ پھر اُس آیت نے جناب کا کون سا دعوٰی ثابت کیا یا حضار مزار کو کیا الزام دیا۔ اگر ایسے ہی بے علاقہ استناد کا نام صریح تام ، تو ہر شخص اپنے دعوے پر قرآن عظیم کی آیت پیش کر سکتا ہے، مثلًا فلسفی کہے: توسیط عقول حق ہے ورنہ لازم آئے کہ تمام اشیاء متکثرہ اس واحد حقیقی سے بالذات صادر ہوئی ہوں، اور یہ خدائے عزوجل پر افتراء۔ فان الواحد لایصدر عنہ الا الواحد (کیونکہ واحد سے واحد ہی صادر ہوسکتا ہے۔ ت) اور اﷲ تعالٰی پر افتراء حرام قطعی۔ قرآن حمید میں بمقامات متعددہ اس کا بیان بتصریح تام موجود ، ازانجملہ ہے سورہ انعام میں : اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوۡنَ ﴿۱۱۶﴾ؕ [2] (جو لوگ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع