30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال کرنے پر کیوں ان الفاظ کا مصداق ہوا۔
سوال (٥): جو شخص ایك جگہ خاص پر ہو کہ وہاں جاکر جس وقت بات کیجئے سن لے۔ اس قدر سے اسے سمیع علی الاطلاق کہا جائے گایا نہیں۔ اور اگر کہیے ہاں، تو اپنے نفس نفیس کو سمیع علی الاطلاق مانیے، ہم نے تو ہمیشہ یہی دیکھا ہے کہ دولت خانہ پر جا کر جب کسی نے بات کی ہے آپ کے کا ن تك پہنچی ہے۔ اور فرمائیے نہ۔ تو مزار پر جاکر سمیع علی الاطلاق جانا کیونکر سمجھا گیا!
سوال (٦): زمانہ وجود مخاطب کے استغراق ازمنہ باوصف خصوص مکان کو جناب نے مثبت سمع علی الاطلاق ٹھہرا یا تواستغراق ازمنۂ وجود و امکنۂ دنیا بدرجہ اولٰی موجب ہوگا۔ اب کیا جواب ہے اس حدیث سے کہ امام بخاری نے تاریخ میں اور طبرانی وعقیلی اور ابن النجار و ابنِ عساکر و ابوالقاسم اصبہانی نے عمار بن یا سر رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کی۔ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سُنا :
|
ان ﷲ تعالٰی ملکا اعطاہ اسماع الخلائق (زاد الطبرانی کلھا) قائم علے قبری (زاد الٰی یوم القٰیمۃ) فما من احد یصلّی صلٰوۃ الاّ ابلغنیھا[1] ۔ |
بیشك اﷲ تعالٰی کا ایك فرشتہ ہے جسے خدا نے تمام جہاں کی بات سن لینی عطاکی ہے۔ وہ قیامت تك میری قبر پر حاضر ہے۔ جو مجھ پر درود بھیجتا ہے جو مجھ سے عرض کرتاہے۔ (ت) |
علامہ زرقانی شرح مواہب اور علامہ عبدالرؤف شرح جامع صغیر میں اعطاہ اسماع الخلائق کی شرح میں یوں فرماتے ہیں:
|
ای قوۃ یقتد ربھا علٰی سماع ماینطق بہ کل مخلوق من انس وجن وغیرھما (زاد ا لمناوی فی ای موضع کان [2]۔ |
یعنی اﷲ تعالٰی نے اس فرشتے کو ایسی قوت دی ہے کہ انسان جن وغیر ہما تمام مخلوقِ الہٰی کی زبان سے جو کچھ نکلے اسے سب کے سننے کی طاقت ہے چاہے کہیں کی آواز ہو (ت) |
اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی، حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اکثر واالصلٰوۃ علی فان اﷲ تعالٰی وکل لی ملکا |
مجھ پر درودبہت بھیجو کہ اﷲ تعالٰی نے میرے مزار پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع