30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بفضل المنان* واشھدان لا الٰہ الاّ اﷲ وحدہ لاشریك لہ شھادۃ یحیی بھا وجہ الدیان* واشھد انّ محمدًا عبدہ، ورسولہ شھادۃ توردنا موارد الرضوان* فصلی اﷲ وسلم وبارك وانعم علی ھذ الحبیب القریب الملتجی، البعید المرتقی الرفیع المکان* وعلٰی اٰلہ وصحبہ وعیالہ وحزبہ اولی العلم والعرفان* وعلینا معھم وبھم ولھم یاجلیل الاحسان* وجمیل الامتنان* اٰمین الٰہ الحق اٰمین |
فرزند روشن دلیل والے غوث والے پر جو بہت احسان فرمانے والے رب کے فضل سے قبر مکرم میں زندہ انعام یافتہ ہیں، اور میں شہادت دیتاہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے جس کا کوئی شریك نہیں ایسی شہادت جس سے جزا دینے والے رب کو تحیت پیش کی جائے۔ اور میں شہادت دیتاہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ایسی شہادت جو ہمیں رضوان کے مقامات میں اتارے۔ توخدا کا درود وسلام اور برکت وانعام ہو اس محبوب پر جو التجا کے لیے قریب، منزل ارتقا میں بلند مرتبے والے ہیں، اور ان کی آل و اصحاب وعیال اور علم وعرفان والی جماعت پر، اور ان کے ساتھ، ان کے طفیل، ان کے سبب ہم پر بھی، اے بزرگ احسان، جمیل امتنان والے، قبول فرما، قبول فرما، اے معبود برحق قبول فرما! (ت) |
امابعد! یہ معدود سطریں ہیں یا منضود سلکین، تنقیح مسئلہ علم وسماع موتٰی، وطلب دعا بمشاہد اولیاء ہیں، جنھیں افقرالفقراء احقر الورٰی عبد المصطفی احمد رضا محمدی، سُنی، حنفی، قادری، برکاتی، بریلوی، اصلح اﷲ عملہ وحقق املہ، نے وائل ماہ رجب ۱۳۰۵ ہجری کی چند تاریخوں میں رنگ تحریر دیا، اور بلحاظ تاریخ حیاۃ الموات فی بیان سماع الوصال (۱۳۰۵ھ) سے مسمٰی کیا، اس سے پہلے کہ فقیر غفرلہ، نے چند کلمے مسمّی بہ الاھلال بفیض الاولیاء بعد الوصال (١٣٠٣ھ) جمع کئے تھے، ان کے اکثر مطالب ومضامین بھی اس رسالہ کے بعض انواع وفصول میں مندرج ہوئے۔ اب یہ عجالہ نہ صرف علم وسماع موتٰی کا ثبوت دے گا بلکہ بحول اﷲ تعالٰی خوب واضح کرے گا کہ حضرات اولیاء بعد الوصال زندہ اور ان کے تصرف وکرامات پایندہ اور ان کے فیض بدستور جاری اور ہم غلاموں خادموں محبوں معتقدوں کے ساتھ وہی امداد واعانت ویاری، والحمد ﷲ القدیر الباری۔
یہ رسالہ حق سے متصل، باطل سے منفصل مقدمہ وسہ مقصد وخاتمہ پر مشتمل وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ھو مولٰنا وعلیہ
التعویل۔
مقدمہ باعث تالیف میں سلخ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ کو ایك مسئلہ بغرض تصدیق واظہارا دعائے طلب تحقیق فقیر کے پاس آیا، صورت سوال یہ تھی:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع