30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو غنی کو بھی لینا جائز نہیں، اگر چہ احتراز زیادہ پسندیدہ ۔ اور اسی پر ہمیشہ سے اس فقیر کا عمل ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۷۱ : ٤ ذی الحجہ ١٣١٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی ہے تو اس صورت میں ہندہ کو کب تك دوسرے کے یہاں کی میّت کا کھانا نہیں چاہئے، اور اگر ہندہ کے گھر میں کوئی مرجائے توا س کا بھی کھانا جائز ہے اور کب تك یعنی برسی تك یا چالیس دن تک۔ اور اگر ہندہ نے شروع سے جمعرات کی فاتحہ نہ دلائی ہو تو چالیس دن کے بعد سات جمعرات کی فاتحہ دلانا چاہئے ، ہوسکتی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
میّت کے یہاں جو لوگ جمع ہوتے ہیں او ران کی دعوت کی جاتی ہے اس کھانے کی تو ہر طرح ممانعت ہے، اور بغیر دعوت کے جمعراتوں، چالیسویں، چھ ماہی، برسی میں جو بھاجی کی طرح اغنیاء کو بانٹا جاتا ہے وہ بھی اگر چہ بے معنی ہے مگر اس کا کھانا منع نہیں، بہتر یہ ہے کہ غنی نہ کھائے اور فقیر کو تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہی اس کے مستحق ہیں، اور ان سب احکام میں وہ جس نے اپنی موت اپنی حیات میں کردی اور جس نے نہ کی سب برابر ہیں، اور اپنی یہاں موت ہوجائے تو اپنا کھانا کھانے کی کسی کو ممانعت نہیں اور چالیس دن کے بعد بھی جمعراتیں ہوسکتی ہیں، اﷲ کے لیے فقیروں کو جب او رجو کچھ دے ثواب ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع