30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شیخ الاسلام فی کشف الغطاء۔ |
نے کشف الغطاء میں نقل کیا ہے (ت) |
خصوصًا جب اس کے ساتھ ریاء وتفاخر مقصود ہو کہ جب تواس فعل کی حرمت میں اصلًا کلام نہیں۔ اور حدیث صحیح میں ہے :
|
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن طعام المتباریین ان یوکل ١[1] اخرجہ ابوداؤد والحاکم عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما باسناد صحیح۔ قال المناوی ای المتعارضین بالضیافۃ فخر ا و ریاء لانہ للریاء لاﷲ٢[2]۔ |
یعنی جو کھانے تفاخر و ریاء کے لیے پکائے جاتے ہیں ان کے کھانے سے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ (اسے ابوداؤد او رحاکم نے بسند صحیح حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنمہا سے نقل کیاہے۔ ت) امام مناوی نے کہا یعنی ضیافت کے ذریعہ ناموری اور دکھاوا مقصود ہو تو یہ اﷲ تعالٰی کے لیے نہیں دکھاوے کے لیے ہے۔ (ت) |
مگر بے دلیل واضح کسی مسلمان کا یہ سمجھ لینا کہ یہ کام اس نے تفاخر و ناموری کے لیے کیا ہے جائز نہیں کہ قلب کا حال اﷲ تعالٰی جانتاہے اورمسلمان پر بدگمانی حرام۔
|
ھذا ھو بحمد اﷲ القول الوسط لاوکس فیہ ولاشطط وان خالف من فرط فی الباب و افرط، واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔ |
یہ بحمد اﷲ درمیانی قول ہے جس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی ۔ اگر چہ اس باب میں تفریط اورافراط کرنے والوں کے خلاف ہو۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے (ت) |
مسئلہ ۲۷۰: ۳ربیع الآخر شریف ١٣١١ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میّت کے گھر کا کھانا، جو اہل میّت سوم تك بطور مہمانی کے پکاتے ہیں اور سوم کے چنوں بتاشوں کالینا کیسا ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
میّت کے گھر کا وہ کھانا تو البتہ بلا شبہہ ناجائز ہے جیسا کہ فقیرنے اپنے فتوے میں مفصلًا بیان کیا، اور سوم کے چنے بتاشے کہ بغرض مہمانی نہیں منگائے جاتے بلکہ ثواب پہنچانے کے قصد سے ہوتے ہیں، یہ اس حکم میں داخل نہیں، نہ میرے اس فتوے میں ان کی نسبت کچھ ذکر ہے۔ یہ اگر مالك نے صرف محتاجوں کے دینے کے لیے منگائے اور یہی اس کی نیت ہے تو غنی کو ان کا بھی لینا نا جائز ، اور اگر اس نے حاضرین پر تقسیم کے لیے منگائے تو اگر غنی بھی لے لے گاتو گنہگار نہ ہوگا، اور یہاں بحکم عرف ورواج عام حکم یہی ہے کہ وہ خاص مساکین کے لیے نہیں ہوتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع