30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انواعھا کذلك فانھا علی الغنی جائزۃ عندنا یثاب بہ بلاخلاف [1]۔ |
اکثر قسمیں فقراء ہی پر ہوتی ہیں کیونکہ ہمارے نزدیك غنی پر بھی صدقہ جائز ہے بلاخلاف ا س پر وہ مستحق ثواب ہے۔ (ت) |
اور مدار کار نیت پر ہے انما الاعمال بالنیات۔ تو جوکھانا فاتحہ کے لیے پکایا گیا ہے بلاتے وقت اسے بلفظ دعوت تعبیر کرنا اس نیت کوباطل نہ کرے گا، جیسے کسی نے اپنے محتاج بھائی بھتیجوں کو عید کے کچھ روپیہ دل میں زکوٰۃ کی نیت اور زبان سے عیدی کا نام لے کر کے دئے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ،عیدی کہنے سے وہ نیت باطل نہ ہوگی کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب ( جیسا کہ عامہ کتب میں علماء نے اس کی صراحت فرمائی ہے۔ ت) معہذا اپنے قریبوں عزیزوں کے مواسات بھی صلہ رحم وموجب ثواب ہے، اگر چہ وہ اغنیاء ہوں وقد عرف ذلك فی الشرع بحیث لا یخفی الاعلٰی جاھل ( جیساکہ شریعت میں یہ ایسا معروف ہے کہ کسی جاہل ہی سے مخفی ہوگا ۔ت) او رآدمی جس امر پر خود ثواب پائے وہ فعل کوئی فعل ہو اس کا ثواب میّت کو پہنچا سکتا ہے۔ کچھ خاص تصدق ہی کی تخصیص نہیں، کما تبین ذلك فی کتب اصحابنا رحمہم اﷲ تعالٰی ( جیسا کہ ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالٰی کی کتابوں میں یہ روشن ہوچکا ہے۔ ت) امام عینی بنایہ میں فرماتے ہیں :
|
الاصل ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلٰوۃ اوصومًا اوصدقۃ اوغیرھا ش کالحج وقرا ءۃ القراٰن والاذکار وزیارۃ قبور الانبیاء والشھداء والاولیاء والصالحین وتکفین الموتی وجمیع انواع البر والعبادۃ کالزکٰوۃ والصدقۃ والعشور والکفارات ونحوھا، اوبدنیۃ کالصوم والصّلٰوۃو الاعتکاف وقراءۃ القراٰن و الذکر والدعاء اومرکبۃ منھا کالحج والجھاد وفی البدائع جعل الجھاد من البدنیات وفی المبسوط جعل المال فی الحج |
اصل یہ ہے کہ انسان اپنے کسی عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کرسکتا ہے، نماز ہو یا روزہ یا صدقہ یا اس کے علاوہ، ہدایہ۔ جیسے حج تلاوتِ قرآن، اذکار، انبیاء، شہداء ،اولیاء اور صالحین کے مزارات کی زیارت، مُردے کو کفن دینا، اور نیکی وعبادت کی تمام قسمیں جیسے زکوٰۃ، صدقہ، عشر، کفارہ اور ان کے مثل مالی عبادتیں، یابدنی جیسے روزہ، نماز اعتکاف، تلاوت قرآن، ذکر،دعا یا دونوں سے مرکب جیسے حج اور جہاد ____ اور بدائع میں جہاد کو بدنی عبادتوں سے شمار کیا ہے اور مبسوط میں مال کو حج کے وجوب کی شرط بتایا ہے تو حج مالی وبدنی سے مرکب نہیں بلکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع