30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٢٦٩: از کلی ناگر ۔ پرگنہ پورن پور، ضلع پیلی بھیت ، مکان علن خاں نمبردار، مرسلہ اکبر علی شاہ ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص مرے ا وراس کے گھر والے چہلم کا کھاناپکائیں اور جو برادر یا غیر ہوں ان سے کہیں کہ تمھاری دعوت ہے تووہ دعوت قبول کی جائے یانہیں؟ اور کھانا کیساہے؟ ینوتوجروا
الجواب:
اللھم ہدایۃ الحق والصواب۔ عرف پر نظر شاہد کہ چہلم وغیرہ کے کھانے پکانے سے لوگوں کا اصل مقصود میّت کوثواب پہنچانا ہوتا ہے، اسی غرض سے یہ فعل کرتے ہیں، ولہٰذا اسے فاتحہ کا کھانا چہلم کی فاتحہ وغیرہ کہتے ہیں، شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر فتح العزیز میں فرماتے ہیں:
|
وارد ست کہ مردہ دریں حالت مانند غریقے است کہ انتظار فریادرسی مے بردو صدقات وادعیہ وفاتحہ درین وقت بسیار بکار اومی آید ازیں ست کہ طوائف بنی آدم تایك سال وعلی الخصوص تایك چلہ بعد موت درین نوع امداد کوشش تمام می نمایند۔[1] |
وار د ہے کہ مردہ اس حالت میں کسی ڈوبنے والے کی طرح فریاد رسی کا منتظر ہوتا ہے اور اس وقت میں صدقے، دعائیں اور فاتحہ اسے بہت کام آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ مرنے سے ایك سال تك خصوصًا چالیس دن تك اس طرح مدد پہنچانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں (ت) |
اور شك نہیں کہ اس نیت سے جو کھانا پکایا جائے مستحسن ہے اور عند التحقیق صرف فقراء ہی پر تصدق میں ثواب نہیں بلکہ اغنیاء پر بھی مورث ثواب ہے، حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : فی کل ذات کبد رطبۃ اجر [2]ہر گرم جگر میں ثواب ہے، یعنی زندہ کو کھانا کھلائے گا، پانی پلائے گا ثواب پائے گا۔ اخرجہ البخاری ومسلم عن ابی ھریرۃ واحمد عن عبداﷲ بن عمروہ ابن ماجۃ عن سراقۃ بن مالك رضی اﷲ عنہم (اسے بخاری ومسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے ، امام احمد نے حضرت عبداﷲ بن عمرو سے، اور ابن ماجہ نے حضرت سراقہ بن مالك سے روایت کیا رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔ ت)حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
فیما یاکل ابن آدم اجر وفیما یاکل |
جو کچھ آدمی کھا جائے اس میں ثواب ہے اور جو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع