30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
معھم فی الیوم الاول جائز لشغلھم بالجھاز وبعدہ یکرہ کذافی التتار خانیۃ [1] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
ساتھ کھانا جائز ہے کیونکہ وہ جنازے میں مشغول رہتے ہیں اور اس کے بعد مکروہ ہے۔ ایسا ہی تتارخانیہ میں ہے: واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت) |
مسئلہ ۲۶۷ تا۲۶۸: از ایرایاں محلہ سادات ضلع فتحپور مسؤلہ حکیم سید نعمت اﷲ صاحب ٢٣ محرم ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(١) سوم ودہم وچہلم میّت کے لیے کھانا جو پکتا ہے اس کو برادری کو کھلائے اور خود جاکر کھائے توجائز ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ تین روز کے اندر میّت کے گھر کا نہ کھائے بعد کو جائز ہے۔ یہ تفریق صحیح ہے؟اگر صحیح ہے تو وجہ ما بہ الفرق ارشاد ہو ۔
(٢) مقولہ طعام المیّت یمیت القلب (طعام میّت دل کو مردہ کردیتا ہے۔ ت) مستند قول ہے۔ اگر مستند ہے توا س کے کیا معنٰی ہیں؟
الجواب
(١) سوم، دہم وچہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیا جائے، برادری کو تقسیم یا برادری کے جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے۔ کما فی مجمع البرکات (جیسا کہ مجمع البرکات میں ہے۔ ت) موت میں دعوت ناجائز ہے۔ فتح القدیر وغیرہ میں ہے:
|
انھا بدعۃ مستقبحۃ لانھا شرعت فی السرور لافی الشرور [2]۔ |
وہ بری بدعت ہے کیونکہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے، غمی میں نہیں۔ (ت) |
تین دن تك اس کا معمول ہے۔ لہٰذا
ممنوع ہے۔ اس کے بعد بھی موت کی نیت سے اگر دعوت کرے گا ممنوع ہے۔
(٢) یہ تجربہ کی بات ہے اور اس کے معنٰی یہ ہیں کہ جو طعام میّت کے متمنی
رہتے ہیں ان کا دل مرجاتا ہے۔ ذکروطاعت الہٰی کے لیے حیات وچستی اس میں نہیں رہتی کہ وہ اپنے پیٹ کے لقمہ کے لیے موت
مسلمین کے منتظر رہتے ہیں اور کھانا کھاتے وقت موت سے غافل اور اس کی لذت میں
شاغل۔ واﷲ تعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع