30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ناجائز مجمع کے لئے ناجائز تر ہوگا، کشف الغطاء میں ہے:
|
ساختن طعام در روز ثانی وثالث برائے اہل میّت اگر نوحہ گراں جمع باشند است زیرا کہ اعانت است ایشاں را برگناہ [1]۔ |
اگر نوحہ کرنے والیا ں جمع ہوں تواہل میّت کے لیے دوسرے تیسرے دن کھانا پکوانا مکروہ ہے کیونکہ اس میں گناہ پر اعانت ہے۔ (ت) |
رابعًا اکثر لوگوں کواس رسم شنیع کے باعث اپنی طاقت سے زیادہ ضیافت کرنی پڑتی ہے،یہاں تك کہ میّت والے بیچارے اپنے غم کو بھول کر اس آفت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اس میلے کے لیے کھانا، پان چھالیا کہاں سے لائیں اور بار ہا ضرورت قرض لینے کی پڑتی ہے۔ ایسا تکلف شرع کو کسی امر مباح کے لیے بھی زنہار پسند نہیں، نہ کہ ایك رسم ممنوع کے لیے، پھراس کے باعث جو دقتیں پڑتی ہیں خود ظاہر ہیں پھر اگر قرض سودی ملا تو حرام خالص ہوگیا، اور معاذ اﷲ لعنت الہٰی سے پورا حصہ ملے کہ بے ضرورت شرعیہ سود دینا بھی سود لینے کے باعث لعنت ہے، جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا۔ غرض اس رسم کی شناعت وممانعت میں شك نہیں، اﷲ عزوجل مسلمانوں کو توفیق بخشے کہ قطعًا ایسی رسوم شنیعہ جن سے ان کے دین ودنیا کا ضرر ہے ترك کردیں، اور طعن بیہودہ کا لحاظ نہ کریں، واﷲ الھادی۔
تنبیہ: اگر چہ صرف ایك دن یعنی پہلے ہی روز عزیزوں کوہمسایوں کو مسنون ہے کہ اہل میّت کے لیے اتنا کھانا پکوا کر بھیجیں جسے وہ دو وقت کھا سکیں اور باصرار انھیں کھلائیں، مگریہ کھانا صرف اہل میّت ہی کے قابل ہونا سنت ہے۔ اس میلے کے لیے بھیجنے کا ہر گز حکم نہیں اور ان کے لیے بھی فقط روز اول کا حکم ہے آگے نہیں، کشف الغطاء میں ہے:
|
مستحب است خویشاں وہمسایہائے میّت راکہ اطعام کنندطعام رابرائے اہل وے کہ سیر کند ایشاں رایك شبانہ روز والحاح کنند تابخورند ودرخوردن غیر اہل میّت ایں طعام رامشہور آنست کہ مکروہ است [2]اھ ملخصًا |
میّت کے عزیزوں، ہمسایوں کے لیے مستحب ہے کہ اہل میّت کے لیے اتنا کھانا پکوائیں جسے ایك دن رات وہ سیر ہوکر کھاسکیں، اور اصرار کر کے کھلائیں، غیر اہل میّت کے لیے یہ کھانا قول مشہور کی بنیاد پر مکروہ ہے اھ ملخصا! (ت) |
عالمگیری میں ہے:
|
حمل الطعام الی صاحب المصیبۃ والاکل |
اہل میّت کے یہاں پہلے دن کھانا لے جانا اور ان کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع