30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المسجد ویکرہ اتخاذ الضیافۃ فی ھذہ الایام وکذا اکلہا کمافی خیرۃ الفتاوی [1] ۔ |
ہے اور ان دنوں میں ضیافت بھی ممنوع اور اس کا کھانا بھی منع ہے، جیسا کہ ۱۵خیرۃ الفتاوی میں تـصریح کی۔ |
اور ۱۶فتاوٰی انقروی اور ۱۷واقعات المفتین میں ہے :
|
یکرہ اتخاذ الضیافۃ ثلاثۃ ایام واکلہا لانہا مشروعۃ للسرور [2] |
تین دن ضیافت اور اس کا کھانا مکروہ ہے کہ دعوت تو خوشی میں مشروع ہوئی ہے۔ |
۱۸کشف الغطاء میں ہے :
|
ضیافت نمودن اہل میّت اہل تعزیت راوپختن طعام برائے آنہا مکروہ ست۔ باتفاق روایات چہ ایشاں رابہ سبب اشتغال بمصیبت استعداد وتہیہ آن دشوار است[3]۔ |
تعزیت کرنے والوں کے لیے اہل میّت کا ضیافت کرنا اور کھانا پکانا باتفاق روایات مکروہ ہے اس لیے کہ مصیبت میں مشغولی کی وجہ سے ا س کا اہتمام ان کے لیے دشوار ہے۔ (ت) |
اسی میں ہے :
|
پس انچہ متعارف شدہ از پختن اہل مصیبت طعام را درسوم وقسمت نمودن آن میان اہل تعزیت واقران غیر مباح ونامشروع است وتصریح کردہ بداں در خزانہ چہ شرعیت ضیافت نزد سرور ست نہ نزد شرور وھو المشہور عند الجمہور [4]۔ |
تو یہ رواج پڑگیا ہے کہ تیسرے دن اہل میّت کا کھانا پکاتے ہیں اور اہل تعزیت اور دوستوں کو بانٹتے کھلاتے ہیں ناجائز وممنوع ہے۔ خزانۃ میں اس کی تصریح ہے اس لیے کہ شرع میں ضیافت خوشی کے وقت رکھی گئی ہے مصیبت کے وقت نہیں اور یہی جمہور کے نزدیك مشہور ہے۔ (ت) |
ثانیًا غالبًا ورثہ میں کوئی یتیم یااور بچہ نابالغ ہوتا ہے۔ یا اور ورثہ موجود نہیں ہوتے، نہ ان سے اس کا اذن لیاجاتا ہے، جب تو یہ امر سخت حرام شدید پر متضمن ہوتا ہے۔ اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
|
الَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ نَارًا ؕ وَسَیَصْلَوْنَ |
بیشك جو لوگ یتیموں کے مال ناحق کھاتے ہیں بلاشبہہ وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھرتے ہیں ، اور قریب ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع