30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قدس سرہ، نے اسے ہر گز روایت نہ کیابلکہ اعتراضاً ذکر کرکے صاف فرمادیا تھاکہ ''ایں سخن اصلے نہ دارد و روایت بدان صحیح نشدہ است'' (اس کلام کی کوئی اصل نہیں، ا ور اس کے بارے میں روایت صحیح نہیں۔ ت)
غرض محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے فضائل ماننے کو توجب تک حدیث قطعی نہ ہو بخاری ومسلم بھی مردود اور معاذاﷲ حضور کی تنقیص فضائل کے لیے بے اصل وبے سند وبے سروپا حکایت مقبول ومحمود، اور پھر دعوٰی ایمان و امانت ودین ودیانت بد ستور موجود۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾ ( اسی طرح اللہ ہر متکبر سخت گیر کے دل پر مہر کردیتا ہے۔ ت)بالجملہ یہ مسئلہ نہ باب عقائد سے نہ باب احکامِ حلال وحرام سے۔ اسے جتنا ماننا چاہئے کہ اس کے لیے اتنی سندیں کافی ووافی ، منکر اگر صرف انکار یقین کرے یعنی اس پر جزم ویقین نہیں تو ٹھیک ہے، اور عامہ مسائل سیر ومغازی و اخبار وفضائل ایسے ہی ہوتے ہیں ، اس کے باعث وہ مردود نہیں قرار پاسکتے، اور اگر دعوٰی نفی کرے یعنی کہے مجھے معلوم وثابت ہے کہ روحیں نہیں آتیں تو جھوٹا کذاب ہے، بالفرض اگر ان روایات سے قطع نظر بھی تو غایت یہ کہ عدم ثبوت ہے نہ ثبوت عدم، اور بے دلیل عدم ادعائے عدم محض تحکم وستم، آنے کے بارے تو اتنی کتب علماء کی عبارات اتنی روایات بھی ہیں نفی وانکار کے لیے کون سی روایت ہے؟ کس حدیث میں آیا کہ روحوں کا آنا باطل وغلط ہے؟ تو ادعائے بے دلیل محض باطل وذلیل۔
کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ طرف مقابل پر وایات موجودہ بربنائے ضعف مردود، اور اپنی طرف روایت کا نام ونشان اورادعائے نفی کا بلند نشان، روحوں کا آنا اگر باب عقائد سے ہے تو نفیاً واثباتاٍ ہرطرح اسی باب سے ہوگا، اور دعوٰی نفی کے لیے بھی دلیل قطعی درکار ہوگی، یا مسئلہ ایک طرف سے باب عقائدمیں ہے کہ صحاح بھی مردود، اور دوسری طرف سے ضروریات میں ہے کہ اصلاً حاجت دلیل مفقود،
|
ولکن الوھابیۃ لایعقلون ولاحول ولاقوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین، اٰمین، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ فقط |
لیکن وہابیہ بے عقل ہوتے ہیں__ اور برائی سے رکنے، نیکی کے کرنے کی طاقت نہیں مگر بلند عظیم خدا ہی کی طرف سے ۔ اور خدائے برتر اپنی مخلوق میں سب سے بہتر محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود نازل فرمائے۔ الہٰی! قبول کر۔ اور اللہ تعالٰی خوب جاننے والا ہے اور اس ذات بزرگ کا علم کا مل اور محکم ہے (ت) |
____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع