30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
احمد بن حنبل وغیرہ من الائمۃ ، اذا روینا فی الحلال والحرام شدد نا واذروینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا [1]۔ |
فرمایا ہے: جب ہم حلال وحرام یعنی باب احکام میں روایت کرتے ہیں تو شدت برتتے ہیں اور جب باب فضائل وغیرہ میں روایت کرتے ہیں تو نرمی رکھتے ہیں۔ (ت) |
اس مبحث کی تفصیل فقیر کی کتاب منیر العین فی حکم تقبل الابھا مین میں ملاحظہ ہو، یہیں دیکھیے رثائے مذکورامیر المؤمنین کیا فضائل اعمال سے تھا، وہ بھی باب علم سے ہے۔ جس میں امام خاتم الحفاظ نے بعض علماء کی بے سند حکایت بھی کافی بتائی۔
ثانیاً: علم رجال بھی مردود ہوجائے کہ وہ بھی علم ہے، نہ عمل وفضل، عمل تو غیر قطعیات سب باطل ومہمل۔
ثالثاً: دو تہائی سے زائد بخاری ومسلم کی حدیثیں محض باطل ومردود قرار پائیں ۔
رابعاً : عقائد واعمال میں تفرقہ جس پر اجماع ائمہ ہے ضائع جائے، کہ احکام حلالِ وحرام میں کیا اعتقاد، حلت وحرمت نہیں لگا ہوا ہے،اور وہ عمل نہیں بلکہ علم ہے تو کسی شے کے حلال یاحرام سمجھنے کے لیے بخاری ومسلم کی حدیثیں مردود، اور جب حلالِ وحرام کچھ نہ جانیں تو اسے کیوں کریں اس سے کیوں بچیں!
خامساً: بلکہ فضائل اعمال میں بھی احادیث صحیحین کا مردود ہونا لازم ۔ حالانکہ ان میں ضعیف حدیثیں بھی یہ سفیہ خود مقبول مانتا ہے، ظاہر ہے کہ اس عمل میں یہ خوبی ہے اس پر یہ ثواب یہ جاننا خود عمل نہیں بلکہ علم ہے اور علم باب عقائد سے ہے اور عقائد میں صحاح ظنیات مردود۔
سادساً:اگلے صاحب نے تو اتنی مہربانی کی تھی کہ حدیث صحیح مرفوع متصل السند مقبول رکھی تھی، انھوں نے بخاری ومسلم بھی مردود کردیں ، جب تک قطعیات نہ ہوں کچھ نہ سنیں گے ؎
قدم عشق پیشتر بہتر
سابعا: ختم الٰہی کاثمرہ دیکھئے، اسی براہین قاطعہ لما امراﷲ بہ ان یوصل میں فضیلت علم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو باب فضائل سے نکلوا کر اس تنگنائے اعتقادیات میں داخل کرایا تاکہ صحیحین بخاری ومسلم کی حدیثیں بھی جو وسعت علم محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر دال ہیں مردود ٹھہریں، اور وہیں وہیں اسی منہ میں محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے علم عظیم کی تنقیص کو محض بے اصل وبے سند حکایت سے سند لا یا کہ شیخ عبدالحق روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو دیوار کے پیچھے کا بھی علم نہیں، حالانکہ حضرت شیخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع