30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حلال وحرام کا، ایسی جگہ دو ایک سندیں بھی بس ہوتیں نہ کہ اس قدر کثیرو وافر۔
امام جلال الملۃ والدین سیوطی مناہل الصفافی تخریج احادیث الشفاء زیر رثائے امیر المومنین عمر فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:
|
لم اجدہ فی شیئ من کتاب الاثر لکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذلک سندً المثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام ١[1]۔ |
یعنی میں نے یہ حدیث کسی کتاب حدیث میں نہ پائی مگر صاحبِ اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں اسے ایک حدیث طویل میں بے سند ذکر کیا۔ ایسی حدیث کو اتنی ہی سند کافی ہے کہ وہ کچھ احکام سے متعلق نہیں۔ |
باقی رہا ضلاّلِ حال کے شیخ الضّلال گنگو ہی کا'' براہین قاطعہ'' میں زعم باطل کہ ارواح کا اپنے گھر آنا یہ مسئلہ عقائد کا ہے اس میں مشہور ومتواتر صحاح کی حاجت ہے قطعیات کا اعتبار ہے نہ ظنّیات صحاح کا یعنی اگر صحیح بخاری و صحیح مسلم وصریح حدیثوں میں ہو کہ روحیں آتی ہیں اور وہ حد یثیں بھی ان کے دھرم (مذہب ١٢) میں مردود ہوں گی کہ ان روایات میں عمل نہیں بلکہ علم ہے اور تسلیم بھی کرلیے توفقط عمل ہے نہ فضل عمل، براھین قاطعۃ لما امر اﷲ بہ ان یو صل ( اللہ تعالٰی نے جس چیز کے ملانے کاحکم دیا اسے قطع کرنے والی کتاب۔ ت) میں چار ورق سے زائد پر یہی اعجوبہ اضحوکہ ، طرح طرح کے مزخرفات سے آلودہ اندودہ (مزین وملمع ١٢) کیا ہے سخت جہالت فاحشہ ہے۔
اقول: اگرچہ ہرجملہ خبر یہ جس میں کسی بات کا ایجاب یا سلب ہو اگر چہ اسے نفیاً واثباتاً کسی طرح عقاید میں دخل نہ ہو، نافی یا مثبت کسی پر اس نفی واثبات کے سبب حکم ضلالت وگمراہی محتمل نہ ہو سب باب عقاید میں د اخل ٹھہرے، جس میں احادیث بخاری ومسلم بھی جب تک متواتر نہ ہوں نا مقبول ٹھہریں، تو
اولاً سیرو مغازی ومناقب یہ علوم کے علوم سب گاؤ خورد و دریا بُرد ہوجائیں، حالانکہ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان علوم میں صحاح درکنار ضعاف بھی مقبول، سیرت انسان العیون میں ہے :
|
لا یخفی ان السیر تجمع الصحیح والسقیم، والضعیف والبلاغ، والمرسل والمنقطع، والمعضل دون الموضوع، وقد قال الامام |
مخفی نہیں کہ کتب سیر، میں موضوع چھوڑ کر صحیح ،سقم، ضعیف، بلاغ، مرسل، منقطع، معضل ہرقسم کی روایتیں ہوتی ہیں، امام احمد وغیرہ ائمہ نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع