30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قاضی ثناء اللہ بھی تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں:
|
ارواح ایشاں (یعنی اولیائے کرام قدست اسرارہم) از زمین وآسمان وبہشت ہر جاکہ خواہندمی روند[1]۔'' |
اولیائے کرام قدست اسرارہم کی روحیں زمین آسمان، بہشت میں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں (ت) |
خزانۃ الروایات میں ہے :
|
عن بعض العلماء المحقیقین ان الارواح تتخلص لیلۃ الجمعۃ وتنتش فجاؤ الی مقابر ثم جاؤا فی بیوتھم [2]۔ |
بعض علماء محققین سے مروی ہے کہ روحیں شب جمعہ چھُٹی پاتی اور پھیلتی جاتی ہیں، پہلے اپنی قبروں پر آتی ہیں پھر اپنے گھروں میں۔ |
دستور القضاۃ مسند صاحبِ مائۃ مسائل میں فتاوٰی امام نسفی سے ہے:
|
ان ارواح المومنین یاتونی فی کل لیلۃ الجمعۃ ویوم الجمعۃ فیقومون بفناء بیوتھم ثم ینادی کل و احد منھم بصوت حزین یا اھلی ویا اولادی ویا اقربائی اعطفوا علینا بالصدقۃ و اذکرونا ولاتنسونا وارحمونا فی غربتنا ٣[3]الخ۔ |
بیشک مسلمانوں کی روحیں ہر روز و شب جمعہ اپنے گھر آتی اور دروازے کے پاس کھڑی ہو کر دردناک آواز سے پکارتی ہیں کہ اے میرے گھر والو! اے میرے بچّو! اے میرے عزیزو! ہم پر صدقہ سے مہر کرو ، ہمیں یا د کرو بھول نہ جاؤ، ہماری غریبی میں ہم پر ترس کھاؤ۔ |
نیز خزانۃ الروایات مستند صاحب مائۃ مسائل میں ہے :
|
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اذا کان یوم عید اویوم جمعۃ اویوم عاشوراء ولیلۃ النصف من الشعبان تاتی ارواح الاموات ویقومون علٰی ابواب بیوتھم فیقولون ھل من احد یذکرنا ھل من احد یترحم علینا ھل من احد یذکر غربتنا[4] الحدیث۔ |
ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے جب عید یا جمعہ یا عاشورہ کا دن یا شب برات ہوتی ہے اموات کی روحیں آکر اپنے گھروں کے دروازوں پر کھڑی ہوتی اورکہتی ہیں: ہے کوئی کہ ہمیں یاد کرے، ہے کوئی کہ ہم پر ترس کھائے، ہے کوئی کہ ہماری غربت کی یاد دلائے۔ |
اسی طرح کنز العباد میں بھی کتاب الروضہ اما م زندویسی سے منقول، یہ مسئلہ کہ نہ عقائد کا ہے نہ فقہ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع