30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابن ابی الدنیا وبیہقی سعید بن مسیب رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی حضرت سلمان فارسی وعبداللہ بن سلام رضی اﷲ تعالٰی عنہما باہم ملے، ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر مجھ سے پہلے انتقال کرو تو مجھے خبر دینا کہ وہاں کیا پیش آیا، کہا کیا زندے اور مردے بھی ملتے ہیں؟ کہا:
|
نعم اما المومنون فان ارواحھم فی الجنۃ وھی تذھب حیث شاءت[1]۔ |
ہاں مسلمان کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں انھیں اختیار ہوتاہے جہاں چاہیں جائیں۔ |
ابن المبارک کتاب الزہد وابوبکر ابن ابی الدنیا وابن مندہ سلمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی :
|
قال ان ارواح المؤمنین فی برزخ من الارض تذھب حیث شاءت ونفس الکافر فی سجین[2] ۔ |
بیشک مسلمانوں کی روحیں زمین کے برزخ میں ہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں، اور کافر کی روح سجین میں مقید ہے۔ |
ابن ابی الدنیا مالک بن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
قال بلغنی ان ارواح المومنین مرسلۃ تذھب حیث شاءت [3]۔ |
فرمایا: مجھے حدیث پہنچی ہے کہ مسلمانوں کی روحیں آزادہیں جہاں چاہتی ہیں جاتی ہیں۔ |
اما م جلال الدین سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں:
|
رجح ابن البران ارواح الشھداء فی الجنۃ وارواح غیرھم علی افنیۃ القبور فتسرح حیث شاءت [4]۔ |
امام ابو عمر ابن عبدالبر نے فرمایا: راجح یہ ہے کہ شہیدوں کی روحیں جنت میں ہیں ا ور مسلمانوں کی فنائے قبور پر، جہاں چاہیں آتی جاتی ہیں، |
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
|
ان الروح اذا انخلعت من ھذا الھیکل وانفکت من القیود بالموت تحول الی حیث شاءت [5]۔ |
بیشک جب روح اس قالب سے جدا اور موت کے باعث قیدوں سے رہاہوتی ہے جہاں چاہتی ہے جولاں کرتی ہے۔ |
[1] شعب الایمان باب التوکل والتسلیم حدیث ١٣٥٥ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢/١٢١
[2] کتاب الزہد لابن مبارک باب ماجاء فی التوکل حدیث ٤٢٩ دارالکتب العلمیہ بیروت ص١٤٤
[3] شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب مقرالا رواح خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص٩٨
[4] شرح الصدور بحوالہ ابن ابی الدنیا باب مقرالا رواح خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۱۰۵
[5] تیسیر شرح جامع صغیر تحتِ حدیث ان روح المو منین الخ مکتبۃ الامام الشافعی الریاض السعودیہ ١/٣٢٩
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع