30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور استناد کا صحیحہ مرفوعہ متصلۃ الاسناد میں حصر اور صحاح کا صرف کتب ستہ پر قصر، جیسا کہ صاحب مأۃ مسائل سے یہاں واقع ہوا۔ جہل شدید وسفہ بعید ہے، حدیث حسن بھی بالا جماع حجت ہے۔ غیر عقائد و احکام حلا ل وحرام میں حدیث ضعیف بھی بالا جماع حجت ہے، ہمارے ائمہ کرام حنفیہ وجمہور ائمہ کے نزدیک حدیث مرسل غیر متصل الاسناد بھی حجت ہے۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے نزدیک حدیث موقوف غیر مرفوع قول صحابی بھی حجت ہے کہ یہ سب مسائل ادنٰی طلبہ علم پر بھی روشن ہیں، او رحدیث صحیح کا ان چھ کتابوں میں محصور نہ ہونا بھی علم کے ابجد خوانوں پر بین ومبرہن (ظاہر ودلائل سے ثابت۔ ت) ہے۔ ولکن الوھابیۃ قوم یجھلون (لیکن وہابیہ نادان ہیں۔ ت)
طرفہ (تعجب ۔ ت) یہ کہ خود صاحبِ مائۃ مسائل نے اس کتاب اور اربعین میں اور بزرگانِ خاندان دہلی جناب مولا نا شاہ عبدالعزیز صاحب وشاہ ولی اﷲ صاحب نے اپنی تصانیف کثیرہ میں وہ وہ روایات غیر صحاح وروایات طبقہ رابعہ اوران سے بھی نازل تر (کم مرتبہ ۔ت) سے استناد کیا ہے جیسا کہ ان کتب کے ادنٰی مطالعہ سے واضح ومبین ہے ولکن النجدیۃ یجحدون الحق وھم یعلمون (لیکن نجدیہ جان بوجھ کر حق کا انکار کرتے ہیں۔ ت)
امام اجل عبداﷲبن مبارک وابوبکر بن ابی شیبہ استاذ بخاری ومسلم حضرت عبدا ﷲ بن عمر وبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے موقوفاً اور امام احمد مسند اورطبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرک اور ابونعیم حلیہ میں بسند صحیح حضور پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے مرفوعاً راوی۔
|
وھذا لفظ ابن المبارک قال ان الدنیا جنۃ الکافر وسجن المؤمن، وانما مثل المؤمن حین تخرج نفسہ کمثل رجل کان فی السجن فاخرج منہ فجعل یتقلب فی الارض یتفسح فیھا [1]۔ |
(اور یہ ابن مبارک کے الفاظ ہیں، ت) بیشک دنیا کافر کی بہشت اور مسلمان کا قید خانہ ہے، جب مسلمان کی جان نکلتی ہے توا س کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص زندان میں تھا اب آزاد کردیا گیا تو زمین میں گشت کرنے اور بافراغت چلنے پھرنے لگا۔ |
روایت یوں ہے :
|
فاذ امات المؤمنین یخلی بہ بسرح حیث شاء [2] ۔ |
جب مسلمان مرتا ہے اس کی راہ کھول دی جاتی ہے کہ جہاں چاہے جائے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع