30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا ممنوع، اور میّت کو ثواب قرآن خوانی وکھانا وغیرہ کا ملتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:
دیوبندی عقیدہ والوں کی نسبت علمائے کرام حرمین شریفین نے بالا تفاق تحریر فرمایا ہے کہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہیں، اور فرمایا: من شك فی عذابہ وکفرہ وفقد کفر [1]جو ان کے کافر ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے۔ ان کی کوئی بات نہ سنی جائے نہ ان کی کسی بات پر عمل کیا جائے جب تك اپنے علماء سے تحقیق نہ کرلیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
وایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتونکم [2]۔ |
ان سے دور بھاگو اور انھیں اپنے سے دور کریں۔ کہیں وہ تم کو گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تم کو فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ |
اور ان کا بتایا ہوا کوئی مسئلہ اگر صحیح بھی نکلے توا س سے یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ عالم ہیں، یا ان کے اور مسائل بھی صحیح ہوں گے۔ دنیا میں کوئی ایسا فرقہ نہیں جس کی کوئی نہ کوئی بات صحیح نہ ہو، مثلًا یہود ونصارٰی کی یہ بات صحیح ہے کہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نبی ہیں۔ کیا اس سے یہودی اور نصرانی سچے ہوسکتے ہیں، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الکذوب قد یصدق [3]بڑا جھوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے،دیوبند ی تو اموات مسلمین کو ثواب پہنچانے ہی سے جلتے ہیں، فاتحہ، سوم،دہم، چہلم سب کو حرام کہتے ہیں، یہ سب باتیں جائز ہیں، میّت کو قرآن خوانی وطعام دونوں کا ثواب پہنچتا ہے، تیجے وچالیسویں وغیر کا تعین عرفی ہے جس سے ثواب میں خلل نہیں آتا، ہاں قرآن خوانی پر اُجرت لینا دینا منع ہے، اس کا طریقہ یہ کیا جائے کہ حافظ کو مثلًاچالیس دن کے لیے نو کر رکھ لیں کہ جو چاہیں کام لیں گے اور یہ تنخواہ دیں گے، پھراس سے قبر پر پڑھنے کا کام لیاجائے، اب یہ اجرت بلاشبہہ جائزہے کہ اس وقت کے مقابل ہے نہ کہ تلاوت قرآن کے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۸ تا ۲۵۰: از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ عبدالجبار صاحب ٢٣ محرم ١٣٣٩ھ
(١) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا ن شرع متین اس مسئلہ میں کہ قرآن شریف پڑھ کر یا زیارتِ قبور وختم تہلیل کرکے جس میں ایصال ثواب مقصود ہوتاہے اُجرت لینا جو حرام ہے وہ قطعی حرام ہے یا نہ؟
(٢) بلا تعین اسی وقت اگر قاری کو کچھ دے دیا جائے وہ بھی حرام ہے یا نہ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع