30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قال اﷲ تعالٰی:
|
اَمْ تَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ﴿۸۰﴾ [1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمھیں علم نہیں۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم |
مسئلہ ۲۴۳ تا ۲۴۴: از بنگال ضلع سلہٹ موضع شوبید پور مرسلہ مولوی انوارالدین صاحب٣ ربیع الاول شریف۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(١) میّت کے ثواب رسانی کے لیے قرآن شریف کر ہدیہ کرنایا چندنماز و روزہ وغیرہ کے کفارہ کے عوض میں قرآن شریف کو حیلہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے ہو تو کون کون صورتوں میں؟ یعنی بعض میّت کے ثلث مال قدر کفارہ کے ہے اور بعض کے کم اور بعض کے بالکلیہ نہیں۔ اور ان صورتوں میں مع وصیت کے کیا حکم ہے؟
(٢) بوقت دفن میّت کے دعا غیرہ پڑھ کر چھوٹے چھوٹے ڈھیلا وغیرہ پر دم کر کے قبر کے اندر رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینواتوجروا
الجواب:
(١) قرآن مجید کسی مسلمان کو دے کر اس کا ثواب میّت مسلم کو پہنچانا جائز ہے، کفارے کے عوض میں قرآن مجید دے کر جو حیلہ یہاں عوا م میں رائج ہے محض باطل وبے سود ہے، بلکہ بحال وصیت ثلث مال یا باجازت ورثہ بالغین ا س سے زائد ، اور بلا وصیت جس قدر مال پر وارث عاقل بالغ چاہے اگر کفارہ واجبہ کی قدر کو کافی نہ ہو بطریق دور پورا کریں یعنی ایك بار فقیر کو دے دیں ا س قدر کا کفارہ اداہوا۔ فقیر بعد قبضہ پھر اسے اپنی طرف ہبہ کردے۔ وارث پھر فقیر کو کفارہ میں دے، یہاں تك کہ الٹ پھیر میں قدر کفارہ تك پہنچ جائے کمانص علیہ فی الدر وغیرہ من الا سفار الغر وقد حققنا ہ فی فتاوٰنا ( جیساکہ درمختار اوراس کے علاوہ کتب مبارکہ میں اس کی تصریح ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
(٢) کوئی حرج نہیں جبکہ قبر میں جگہ نہ گھیرے لعدم المنع وما لم یمنع لایمنع ( کیونکہ اس سے ممانعت نہ آئی اور جس سے منع وارد نہیں وہ ممنوع نہ ہوگا۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ٢٤٥: ا زپوسٹ فراش گنج ضلع نواکھالی ملك بنگالہ ١٠ جمادی الاولٰی ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ثواب رسانی کی نیت سے قرآن مجید پڑھ کر اس پر اُجرت دینا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع