30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کارما رامؤ ید راست کہ چوں صبی ممیزاصل عمل بہر دیگرے وازا ں او مے تواں کرد وہبہ ثواب یکے از توابع اوست وذلك قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فیما روینا عنہ تقبل منہ ومنھما کما اسفلنا پس از مجرد اہدائے ثواب مانع کیست وجا حر چیست ،سخن اینجا درازاست ودرفیض الٰہی بازامابرہمیں قدر بسندہ کنیم حامدین لربنا علٰی جودہ ونو الہ ومصلین علی سیدنامحمد واٰلہ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
نہ معتوہ۔ نہ ممیز بچہ___ ہم نے اس مسئلہ میں حوالے زیادہ پیش کئے جس کی وجہ یہ ہے کہ لباب کے بعض نسخوں میں کچھ خطائے کتابت واقع ہوئی جس نے شارح کوایك بااضطراب بحث میں ڈال دیا جس کاجواب بعونہٖ تعالٰی ہم نے اس کے حاشیہ میں کامل طور پر دے دیا ہے یہاں اسے ذکر کرکے کلام طویل کرنے کی ضرورت نہیں____ پھر ظاہر الروایہ کی بنیاد پر جو صحیح احادیث کے صریح نصوص سے تائید یافتہ ہے کہ نفس عمل آمر کی جانب سے واقع ہوتا ہے۔ یہ معنی اس کام میں ہمارے لیے زیادہ مؤید ہے کہ جب ممیز بچہ اصل عمل دوسرے کے لیے اور اس کے حق میں کرسکتا ہے اور ثواب ہبہ کرنا بھی اس کے توابع میں سے ایك ہے اور وہ رسول کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاروایتِ مذکورہ میں یہ ارشاد ہے کہ"اس سے اوراس کی ماں باپ دونوں کی جانب سے قبول کیا جائے"تو ثواب ہدیہ کرنے سے مانع کون ہے اور رکاوٹ کیا ہے؟ کلام یہاں طویل ہے اور فیض الہی کا دروازہ کشادہ ،مگر ہم اسی قدر پر اکتفا کرتے ہیں اس کے سا تھ اپنے رب کی ، اس کے جود وکرم پر حمد کرتے ہیں اور اپنے آقا حضرت محمد اور ان کی آل پردرود بھیجتے ہیں اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والاہے، او راس ذات بزرگ کا علم زیادہ کامل اور محکم ہے۔ (ت) |
مسئلہ ٢٤٢: از الہ آباد مدرسہ سبحانیہ دارالطباء مرسلہ محمد سعید الحسن صاحب ١١ صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے یہ دستور مقرر کر رکھا ہے کہ ہر ششماہی یا سالانہ یوم معین وتاریخ مقررہ پر اپنے پیر کا عرس ہوا کرے، لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ جو شخص یہ عرس کرے اور عرس کی نیاز کردہ شیرینی کھائے گا او پر بلا شبہہ جنت مقام دوزخ حرام ہے، یہ کہنا شرعًا کیا حکم رکھتا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب:
یہ کہنا جزاف اور یاوہ گوئی ہے۔ اﷲ جانتا ہے کہ کس کاجنت مقام اور کس پر دوزخ حرام، عرس کی شیرینی کھانے پر اﷲ تعالٰی ورسول کا کوئی وعدہ ایسا ثابت نہیں جس کے بھروسہ پر یہ حکم لگاسکیں، تو یہ تَقَوُّل علی اﷲ (اﷲ تعالٰی پر اپنی طرف سے لگا کر کچھ بولنا ۔ت) ہوا اور وہ ناجائز ہے۔ قال اﷲ تعالٰی:
|
اَطَّلَعَ الْغَیۡبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحْمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۙ۷۸﴾[1] |
کیا اس نے غیب دیکھ لیا ہے یا رحمان کے یہاں کوئی عہد کررکھا ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع