30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جعلُ ثوابہا لغیرہ [1]اھ وفی الہندیہ عن الغایۃ کالھدایۃ مع زیادۃ مفیدۃ وفی ملتقی الابحر اخر الباب وللانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ فی جمیع العبادات [2] اھ قال فی شرح مجمع الانھر ھذا وقع فی معرض العلۃ لما قبلہ [3] اھ پس ثابت شدکہ حج ازدیگرے کردن از باب اہدائے ثواب است، ورنہ این تفریع راچہ محل بودے، حالا باید دیدکہ صبی نیز حج عن الغیر تواں کرد یانہ، درکتب مذہب تصریحات جلیہ است کہ می تواں کرد۔ در تنویر الابصار است یشترط اھلیۃ المامور لصحۃ الافعال [4]۔ درحاشیۃ علامہ طحطاوی است عبر بالصحۃ دون الوجوب لیعم المراھق فانہ اھل للصحۃ دون الوجوب[5]۔ در درمختار است فجاز حج الصرورۃ والمرأۃ والعبد والمراھق وغیرہم اولی لعدم الخلاف [6] اھ ملخصا۔ ودر ردالمحتار است الشرط ھو الاھلیۃ دون الذکورۃ والحریۃ والبلوغ [7]اھ ملخصا وہم دراں ازلباب درتعداد شرائط آورد |
درمختار باب الحج عن الغیر میں ہے: اصل یہ ہے کہ جو شخص بھی کوئی بھی عبادت کرے اسے اختیار ہے کہ اس کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اھ، ہندیہ میں غایہ کے حوالے سے عبارت ہدایہ کی طرح ایك مفید اضافے کے ساتھ ہے _ ملتقی الابحر باب مذکور کے آخر میں ہے: انسان کوتمام عبادات پراختیار ہے کہ اپنے عمل کا ثواب دوسرے کے لیے کردے اھ اس کی شرح مجمع الانھر میں ہے : یہ عبادت بیان ماقبل کے علت کی منزل میں ہے ____تو ثابت ہوا کہ دوسرے کی جانب سے حج کرنا اہدائے ثواب کے باب سے ہے ___ ورنہ اس تفریع کاکیا موقع ہوتا___ اب دیکھناچاہئے کہ بچہ بھی دوسرے کی جانب سے حج کرسکتاہے یا نہیں؟ ___ کتب مذہب میں روشن تصریحات موجود ہیں کہ کرسکتاہے __تنویر الابصار میں ہے: صحتِ افعال کے لیے مامور کا اہل ہونا شرط ہے حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:"صحت"سے تعبیر فرمائی "وجوب"سے نہیں۔ تاکہ مراہق (قریب البلوغ لڑکے) |
[1] درمختار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨١
[2] ملتقی الابحر باب الحج عن الغیر موسسۃ الرسالہ بیروت ١/٢٣٤
[3] مجمع الانہر شرح ملتقی الابحربا ب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ١/٣١٠
[4] درمختار شرح تنویر الابصار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨١
[5] طحطاوی علی الدرالمختار باب الحج عن الغیر دارالمعرفۃ بیروت ١/٥٤٩
[6] درمختار باب الحج عن الغیر مطبع مجتبائی دہلی ١/١٨٢
[7] ردالمحتار باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢/١٤١
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع